سعودی عرب:16 خواتین کو ڈرائیونگ پر جرمانے

Image caption سعودی خواتین نے اپنی ڈرائیونگ والی ویڈیوز آن لائن پوسٹ کی تھیں

سعودی عرب میں پولیس کا کہنا ہے کہ ملک میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کے خلاف بطور احتجاج گاڑی چلانے والی 16 خواتین کو جرمانے کیے گئے ہیں۔

دارالحکومت ریاض میں سعودی پولیس کے ترجمان کرنل فواض المیمان نے کہا ہے کہ ہر خاتون ڈرائیور کو 80 امریکی ڈالر کے مساوی رقم بطور جرمانہ ادا کرنا ہوگی۔

’عورتوں کی ڈرائیونگ نسوانیت کے لیے خطرہ‘

اس کے علاوہ انہیں یہ ضمانت بھی دینا ہوگی کہ وہ آئندہ گاڑی نہیں چلائیں گی جبکہ ان کے مرد رشتہ داروں کو انہیں گاڑی کی چابیاں نہ دینے کی ضمانت دینا ہوگی۔

سعودی عرب میں 1990 سے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد ہے۔ یہ پابندی قانون کا حصّہ نہیں تاہم معاشرتی اور تہذیبی طور پر سعودی عرب میں اس عمل کی اجازت نہیں ہے۔

عورتوں کو ڈرائیونگ کا اختیار دلوانے کے لیے جاری مہم سنیچر کو اپنے عروج پر تھی اور اطلاعات کے مطابق 60 سے زائد خواتین نے گاڑیاں چلا کر احتجاجی مہم میں حصہ لیا تھا۔

ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی تاہم انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں چند خواتین کو ضرور گاڑی چلاتے دیکھا گیا۔

سنیچر کو ہونے والا یہ احتجاج اپنی نوعیت کا تیسرا احتجاج تھا۔

ملک کی وزراتِ داخلہ نے سنیچر کو ہی اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو غیر معینہ سزا دیے جانے کی تنبیہ کو ایک مرتبہ پھر دہرایا تھا۔

سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کے حق میں سترہ ہزار لوگوں نے ایک عرضداشت پر دستخط کر رکھے ہیں جس میں یہ کہا گیا ہے عورتوں پر اس پابندی کی وضاحت کی جائے۔

اس سے قبل جمعہ کو سعودی وزراتِ داخلہ کے ترجمان منصور الترکی نے خواتین ڈرائیوروں کی مہم کے بارے میں سعودی حکومت کا سخت موقف واضح طور پر بیان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عورتوں کے گاڑی چلانے پر پابندی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں اور ان کے حمایتیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘۔ تاہم انہوں نے اس کارروائی کی وضاحت نہیں کی تھی۔

خواتین کے گاڑی چلانے پر عائد پابندی کے خلاف مہم کی ایک کارکن ذکی صفر کا کہنا تھا کہ پابندی سے متعلق یہ بیان غیر معمولی طور پر واضح ہے۔

’اب یہ غلط فہمی دور ہو گئی ہے کہ حکومت خود اس پابندی کی حمایت نہیں کرتی۔‘ انہوں نے مزید کہا تھا’نہیں، ترجمان بہت واضح تھا اور 26 تاریخ کو جو عورت گاڑی چلائے گی اسے سزا ملے گی۔‘

اس ہفتے کے اوائل میں دارالحکومت ریاض کی شاہی عدالت میں سو قدامت پرست علما نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اس مہم کی مذمت کریں کیونکہ یہ عورتوں کی سازش اور ملک کے لیے خطرہ ہے۔

لیکن اسے معاملے پر 1990 میں ہونے والے دوسرے احتجاجی مظاہرے پر حکام کے رویّے سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت میں سخت گیر موقف رکھنے والے لوگ اب بہت کم ہیں۔

احتجاج کی تازہ لہر میں درجنوں خواتین نے اپنی ویڈیوز آن لائن پوسٹ کی ہیں جن میں انھیں مختلف سعودی شہروں میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس مہم کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب معاشرے کا چلن تبدیل ہو رہا ہے اور اب مردوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد اس پابندی کے خاتمے کے حق میں ہے۔

اس حوالے سے ایک عرض داشت پر سترہ ہزار لوگوں نے دستخط کیے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ یا تو اس قانون میں تبدیلی کی جائے یا واضح کیا جائے کہ یہ کیوں لاگو رہے؟

اسی بارے میں