عراق: بغداد اور موصل میں کار بم دھماکے، 50 افراد ہلاک

Image caption عراق میں حالیہ چند ماہ میں پر تشدد واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں

عراق کے دارالحکومت بغداد اور جنوبی شہر موصل میں متعدد کار بم دھماکوں میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق اتوار کو شہر کے شیعہ اکثریتی علاقوں کی مصروف گلیوں میں کھڑی گاڑیوں میں نصب بم تیس منٹ کے عرصے کے دوران پھٹے۔

عراق: بغداد کے ایک کیفے میں خودکش حملہ، 37 ہلاک

بغداد: شیعہ زائرین پر حملہ، 51 افراد ہلاک

اس کے علاوہ کچھ دھماکوں میں بازاروں اور بس کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

بغداد میں ہونے والے دھماکوں میں 38 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

ادھر موصل میں ہونے والے کار بم حملے میں فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا جو تنخواہ لینے کے لیے بینک کے باہر جمع تھے۔

حکام کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والے 12 افراد میں فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں اور دھماکے میں 20 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

عراق میں حالیہ چند ماہ میں پر تشدد واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 2008 میں مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر شروع ہونے والا تشدد اپنے عروج پر ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق پرتشدد واقعات میں صرف ستمبر کے مہینے میں میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے جبکہ غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اکتوبر میں چھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

سنی عسکریت پسندوں کو بشمولِ القاعدہ کی مقامی شاخ کے، ان حملوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جو اکثر شیعہ علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

گذشتہ اتورا کو بھی بغداد کے ایک کیفے میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم سے کم سینتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی طرح پانچ اکتوبر کو بھی شیعہ زائرین پر بم حملے میں کم از کم اکیاون افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شیعہ قیادت والی عراقی حکومت ملک کی اقلیتی سنی آبادی کی تكليفوں کو دور نہیں کر پائی ہے اور اسے تشدد میں اضافہ کی ایک وجہ سمجھا جاتا ہے۔

بہت سے سنیوں کی شکایت ہے کہ انہیں سرکاری ملازمتیں اور بڑے عہدے نہیں دیے جاتے ہیں اور وہ سکیورٹی فورسز پر ظلم و زیادتی کا الزام بھی لگاتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق زیادہ تر عراقیوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ شیعہ اور سنی آبادی کو نشانہ بنانے والے حملوں سے ایک بڑی فرقہ وارانہ لڑائی جنم لے سکتی ہے۔

اسی بارے میں