جنوبی افریقہ: برطانوی سکیورٹی کمپنی، جی فور ایس پر جیل میں زیادتیاں کرنے کا الزام

Image caption جی فور ایس پر الزام ہے کہ اس کے عملے نے قیدیوں کو بجلی کے جھٹکے دیے

برطانیہ کی جی فور ایس نامی سکیورٹی کمپنی پر جنوبی افریقہ کی ایک جیل میں ’چونکا‘ دینے والی زیادتیاں کرنے اور وہاں انتظامی کنٹرول کھو دینے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے بعد جنوبی افریقہ کی حکومت نے اس کمپنی سے مینگانگ جیل کی سکیورٹی کا انتظام واپس لے لیا ہے اور جی فور ایس کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئي ہیں۔

یہ اقدامات اس وقت کیے گئے جب قیدیوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور زبردستی انجیکشن لگوائے گئے۔

دوسری طرف جی فور ایس کمپنی کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے ملازمین کی جانب سے زیادتیاں کرنے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

بی بی سی کے پاس اس انتہائي سکیورٹی والی جیل سے لیک ہوئی ویڈیو فوٹیج موجود ہے جس میں بجلی کے جھٹکوں کی آواز کے ساتھ ہی چیخوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اس فوٹیج میں ایک قیدی کو انجیکشن لگوانے کے خلاف مزاحمت کر تے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

جنوبی افریقی دارالحکومت جوہانسبرگ کی وٹس یونیورسٹی میں وٹس جسٹس پروجیکٹ کے محققین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک سال تک جاری تفتیش کے دوران تقریباً 30 قیدیوں سے بجلی کے جھٹکے دیے جانے اور مارے پیٹے جانے کی رودادیں اکٹھی کی ہیں۔

وٹس جسٹس پروجیکٹ سے منسلک ایک صحافی روتھ ہوپکنز کا کہنا ہے کہ بعض قیدیوں نے ان سے کہا کہ ’جب بجلی کے جھٹکے زیادہ شدید ہوتے تھے تو وہ بے ہوش ہو جاتے تھے۔‘

روتھ نے کہا کہ قیدیوں نے ٹوٹے ہاتھ پاؤں اور دوسرے قسم کے سنگین زخموں اور چوٹوں کی بھی شکایت کی۔

اس قید خانے کے ایک سابق قیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ بجلی کے جھٹکے ’تشدد‘ کے لیے دیے جاتے ہیں جبکہ اس جیل سے نکالے گئے ایک سکیورٹی گارڈ نے کہا کہ جھٹکے کے اثرات کو بڑھانے کے لیے قیدیوں پر پانی پھینکا جاتا تھا۔

Image caption مینگانگ جیل انتہائي سکیورٹی والی جیل ہے

افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو ہارڈنگ کے مطابق بعض قیدیوں کے ایک وکیل نے جیل کے اہلکاروں میں پائے جانے والے جابرانہ کلچر کی مذمت کی ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دوسری جانب جی فور ایس نے تشدد میں اضافے کی وجہ نوکریوں کا تنازع قرار دیا۔گذشتہ ماہ کمپنی کے 300 سے زیادہ محافظوں کو غیر سرکاری طور پر ہڑتال کرنے کی وجہ سے معطل کر دیا گیا تھا۔

جنوبی افریقہ کی اصلاحات کے شعبے کی قائم مقام قومی کمیشنر ناسیکیلولو جولینگانا نے بی بی سی کو بتایا کہ زیادیتوں کی شکایت کے بعد اس معاملے میں باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں