یورپ جانے کی خواہش، صحرا میں درجنوں افراد پیاس سے ہلاک

Image caption تارکین وطن کی منزل الجیریا کے راستے یورپ تھی

افریقی ملک نائجر میں حکام کے مطابق یورپ جانے والے درجنوں تارکین وطن صحارا یعنی صحرائے اعظم میں پیاس کی شدت سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

شمالی نائجر کے سب سے بڑے شہر آغادیز کے میئر راحیسا فلٹو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ الجیریا پہنچنے کی کوشش میں 35 سے 60 افراد ہلاک ہوئے۔

آسٹریلیا پہنچنے کے لیے زندگیاں داؤ پر

انہوں نے بتایا کہ رواں ماہ کے شروع میں آغادیز کے شمال میں واقع شہر آرلیٹ سے دو گاڑیوں میں کم از کم ساٹھ تارکین روانہ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کی منزل صحرائے اعظم کے وسط میں واقع الجیریا کے شہر تمنراست تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک گاڑی خراب ہو گئی اور اس کی مرمت کے لیے مسافر اضافی پرزوں کی تلاش میں نکلے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے گروپس کی شکل میں تارکین وطن نے چلنا شروع کیا۔کئی دنوں کے بعد بچ جانے والے افراد آرلٹ پہچنے اور وہاں فوج کو خبردار کیا اور فوج ان کی مدد کو روانہ ہوئی لیکن اس وقت تک تاخیر ہو چکی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آرلٹ میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سنرجیی کے ایک اہلکار آزوا مامانے کے مطابق پیچھے رہ جانے والے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ مغربی افریقہ سے یورپ جانے والے بڑے راستوں پر سے ایک پر آغادیز شہر واقع ہے۔

رواں ماہ یورپ جانے کی خواہش میں سینکڑوں تارکین وطن اٹلی کے قریب سمندر میں کشتیاں الٹنے کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں