برطانیہ کا اسلامی سکوک بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ

Image caption برطانوی وزارتِ خزانہ اسلامی سکوک بانڈ آئندہ برس کے اوائل میں جاری کر سکتی ہے

برطانوی حکومت نے اسلامی ممالک کو برطانیہ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے اسلامی بانڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان بانڈز کے اجرا کے بعد برطانیہ دنیا میں اسلامی بانڈ جاری کرنے والا پہلا غیر مسلم ملک بن جائے گا۔

اس فیصلے کا اعلان وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون منگل کو لندن میں عالمی اسلامی اقتصادی فورم کے اجلاس میں کرنے والے ہیں۔

وہ لندن سٹاک ایکسچینج کے نئے اسلامی انڈیکس یا اشاریے کے منصوبے کا بھی اعلان کریں گے جس کا مقصد مسلم سرمایہ کاروں کے لیے ان کمپنیوں کی تلاش میں آسانی پیدا کرنا ہے جو ان کے معیار پر پورا اترتی ہوں۔

خیال رہے کہ اسلام میں کاروباری سودوں میں سود لینے کی اجازت نہیں اور یہ لین دین اصل تجارتی سرگرمیوں پر ہی ممکن ہے اور شریعت میں ممنوع قرار دی جانے والی اشیاء کی تجارت بھی نہیں کی جا سکتی۔

برطانیہ میں مالی لین دین کی صنعت میں اسلامی سرمایہ کاری میں گزشتہ 7 برس میں ڈیڑھ سو فیصد اضافہ ہوا ہے اور آئندہ برس اس کی کل مالیت تیرہ کھرب پاؤنڈ تک پہنچے کی امید ہے۔

برطانوی وزیراعظم اپنی تقریر میں کہیں گے کہ ’میں لندن کو صرف مغربی دنیا میں اسلامی سرمایہ کاری کا مرکز نہیں بنانا چاہتا بلکہ میری خواہش ہے کہ وہ دنیا میں اسلامی سرمایہ کاری میں میں دبئی کے ساتھ دنیا کے بڑے مرکز کے طور پر کھڑا ہو۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہوگا کہ ’کچھ ممالک تسلیم نہیں کر رہے کہ دنیا میں آنے والی تبدیلیاں مستقبل میں ان کی کامیابیوں کو متاثر کریں گی لیکن برطانیہ یہ غلطی نہیں کرے گا۔‘

برطانوی وزارتِ خزانہ بیس کروڑ پاؤنڈ کے اسلامی سکوک بانڈ آئندہ برس کے اوائل میں جاری کر سکتی ہے جن میں سرمایہ کاروں کو بغیر کسی سود کے ایک طے شدہ رقم ادا کی جائے گی۔

اسی بارے میں