امریکہ: خفیہ اداروں کی جاسوسی کے مفصل جائزے کا اعلان

Image caption انٹیلی جنس ادارے جو کچھ کرنے کے قابل ہیں ضروری نہیں کہ وہ سب کچھ کریں بھی: اوباما

امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہ نے جاسوسی کی کارروائیوں کا مفصل جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

سینیٹر ڈائین فائن سٹائن نے پیر کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اپنے دوست ممالک کے رہنماؤں کی جاسوسی کیا جانا صحیح نہیں اور صدر کی اتحادی ممالک کے رہنماؤں کی جاسوسی کے آپریشنز سے لاعلمی بڑا مسئلہ ہے۔

’اوباما کو میرکل کی نگرانی پر بریفنگ نہیں دی‘

’امریکہ ہسپانوی شہریوں کی نگرانی کی تفصیلات دے‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس نے انہیں یقین دلایا ہے کہ اس قسم کی تمام جاسوسی روک دی جائے گی۔

یہ بیان سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی جانے والی نئی دستاویزات سے سامنے آیا ہے جن کے مطابق امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی جرمن چانسلر سمیت 34 عالمی رہنماؤں کی نگرانی کرتی رہی ہے۔

امریکہ میں صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ عالمی رہنماؤں کی جاسوسی کی اطلاعات اور صدر اوباما کی ان آپریشنز سے بظاہر لاعلمی کے معاملے پر وضاحت کرے۔

واشنگٹن میں موجود یورپی یونین کے وفد میں شامل ایک مندوب نے خفیہ معلومات کے حصول کی کوششوں کو ’اعتماد کا فقدان‘ قرار دیا ہے۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر براک اوباما کو اس کارروائی کی اطلاع نہ ہونا بھی غلط ہے۔ بظاہر امریکی صدر رواں موسمِ گرما تک اس سے لاعلم تھے کہ امریکی خفیہ ادارے جرمنی کی چانسلر کے فون کی نگرانی کر رہے ہیں اور یہ عمل ایک دہائی سے جاری ہے۔

فائن سٹائن نے کہا کہ جہاں انٹیلی جنس کمیٹی کو ٹیلیفون ریکارڈز جمع کرنے جیسے معاملات کے بارے میں مطلع کیا جاتا رہا ہے، وہیں قومی سلامتی ایجنسی کے حکام نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ وہ عالمی رہنماؤں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

بیان میں ڈائین فائن سٹائن نے کہا کہ ’این ایس اے کی جانب سے فرانس، سپین، میکسیکو اور جرمنی جیسے امریکہ کے اتحادی ممالک کے رہنماؤں کے بارے میں خفیہ معلومات کے حصول کے تناظر میں، میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں اس کے بالکل خلاف ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ہنگامی حالات میں صدر کی مرضی کے بغیر ’دوست ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کی ٹیلیفون کالز اور ای میل جمع نہیں کرنی چاہییں۔‘

ادھر پیر کی شب ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں صدر اوباما نے بھی کہا ہے کہ قومی سلامتی کی کارروائیوں کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جاسوسی کی تکنیکی صلاحیتیں حد میں رہیں۔

اے بی سی گروپ کے فیوژن نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے براک اوباما کا کہنا تھا کہ ’ہم انہیں پالیسی ہدایات فراہم کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ’تاہم ہم نے گزشتہ چند برسوں میں دیکھا ہے کہ ان کی صلاحیتوں میں بہتری آئی ہے اور اضافہ ہوا ہے اور اسی لیے میں اب ایک جائزہ لینے کا عمل شروع کروا رہا ہوں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ جو کچھ کرنے کے قابل ہیں ضروری نہیں کہ وہ سب کچھ کریں بھی۔‘

براک اوباما نے اس بات چیت میں اتحادی ممالک کے رہنماؤں کی جاسوسی کے الزامات پر تبصرہ نہیں کیا۔

اوباما انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نگرانی کے عمل میں انفرادی سطح پر تو تبدیلیاں ممکن ہیں لیکن اتحادیوں کے بارے میں خفیہ معلومات کے حصول کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا تھا کہ خفیہ معلومات کی حصول کے نظام کی ایک حد مقرر ہونی چاہیے۔

جے کارنی نے پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملکی انٹیلی جنس پالیسی پر نظرِ ثانی جاری ہے اور اس میں دوسروں کی رازداری اور ذاتیات کے خدشات کو مد نظر رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سمجھتی ہے کہ ’ہمیں انٹیلی جنس جمع کرنے اور اس کے استعمال کے لیے ایک حد مقرر کرنے کی ضرورت ہے‘۔ کارنی نے وضاحت کی کہ امریکہ نے اپنی انٹیلی جنس جمع کرنے کی صلاحیت کو کبھی اپنی معیشت کے مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا۔

ترجمان نے کہا کہ ’ہمیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے انٹیلی جنس ذرائع ہماری خارجہ پالیسی اور قومی تحفظ کی پالیسیوں کے مقاصد سے ہم آہنگ ہوں۔ ہم اپنے اقدامات کے خطرات اور ثمرات کو زیادہ اچھی طرح جانچ رہے ہیں‘۔

جے کارنی نے مزید کہا کہ ’امریکہ کی انٹیلی جنس ذرائع پر جامع نظرِ ثانی کا عمل جاری ہے اور توقع ہے کہ اس میں انتظامیہ کا تعاون بھی رہے گا تاکہ ہمارے شہریوں اور اتحادیوں دونوں کے تحفّظ اور رازداری کے خدشات کو خیال رکھا جا سکے‘۔

دریں اثناء نگرانی کے معاملات پر یورپی پارلیمان کی شخصی آزادی کی کمیٹی کے ارکان نے بھی امریکی کانگریس کے ارکان سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں یورپی ارکانِ پارلیمان نے امریکی ارکان کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا اور وضاحت بھی طلب کی ہے۔

اسی بارے میں