امریکہ: این ایس اے نے جاسوسی کے لیے کیا طریقے استعمال کیے؟

امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے منظرِ عام پر لائے گئے دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر مواصلاتی جاسوسی کر رہا ہے۔

ان دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی نے کہا ہے کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے کی جانے والی جاسوسی کے طریقے پر نظر ثانی کی جائے گی۔

نیشنل سکیورٹی ایجنسی جاسوسی کرنے کے لیے کیا طریقے استعمال کرتی ہے؟

انٹرنیٹ کمپنی کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا

رواں سال جون میں دستاویزات سے معلوم ہوا کہ این ایس اے کیسے خفیہ طریقے سے انٹرنیٹ کمپنیوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی۔

این ایس اے کو نو انٹرنیٹ کمپنیوں کے سرورز تک رسائی حاصل ہے جس کے ذریعے جاسوسی کے پرزم نامی پروگرام کے تحت آن لائن کمیونیکیشن کی نگرانی کی جاتی ہے۔ ان کمپنیوں میں فیس بک، گوگل، مائیکروسافٹ اور یاہو شامل ہیں۔

ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے این ایس اے کو سرورز تک ’براہ راست رسائی‘ نہیں دی۔

فائیبر آپٹک کیبل کی نگرانی

جون میں برطانوی اخبار گارڈین نے انکشاف کیا تھا کہ برطانیہ نے فائیبر آپٹک کیبلز کے ذریعے عالمی کمیونیکیشن کی جاسوسی کی اور اس سے حاصل ہونے والی معلومات کو این ایس اے کے ساتھ شیئر کیا گیا۔

گارڈین کے مطابق دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ نے دو سو فائیبر آپٹک کیبلز تک رسائی یاصل کی جس کے باعث برطانیہ یومیہ چھ سو ملین کمیونیکیشن کی نگرانی کر سکتا تھا۔

انٹرنیٹ اور فون کے بارے میں حاصل کی گئی معلومات کو تیس روز تک کے لیے محفوظ کی گئی تاکہ ان کا تجزیہ کیا جائے۔

فون ٹیپنگ

اکتوبر میں جرمنی کی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ امریکہ نے جرمنی کی چانسلر آنجیلا میرکل کے فون کی دس سال سے زیادہ جاسوسی کی۔ یہ جاسوسی چند ماہ قبل ہی ختم کی گئی ہے۔

ڈا شپیگل کے مطابق ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے عیاں کیے گئے دستاویزات کے مطابق امریکہ نے ممکنہ طور پر 2002 سے میرکل کے فون کی جاسوسی شروع کی۔

انکرپشن کا نطام کیسے چلتا ہے

جرمنی کی چانسلر کے فون کی نگرانی کے علاوہ این ایس اے پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے جرمنی اور فرانس کے شہریوں کی کروڑوں فون کالز کی جاسوسی بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ این ایس اے نے پینتیس ممالک کے سربراہان کی فون کالز کی بھی جاسوسی کی ہے۔

گارڈین کے بقول پینتیس ممالک کے رہنماؤں کے فون کی جاسوسی اس وقت کی گئی جب امریکی حکام نے ان کے نمبر این ایس اے کو فراہم کیے۔

ٹارگٹڈ جاسوسی

جرمنی کے جریدے ڈا شپیگل کے مطابق امریکہ نے امریکہ اور یورپ میں یورپی یونین کے دفاتر کی بھی جاسوسی کی۔

جریدے کی رپورٹ کے مطابق این ایس اے نے واشنگٹن میں یورپی یونین کے اندرونی کمپیوٹر نیٹ ورک کی جاسوسی کی اور یورپی یونین کے اقوام متحدہ کے دفتر کی بھی جاسوسی کی۔

ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے لیک کیے گئے دستاویزات کے مطابق این ایس اے نے برسلز میں ایک عمارت میں بھی جاسوسی کی جہاں یورپی یونین کے وزراء کی کونسل یورپی کونسل واقع ہے۔

اسی بارے میں