’عالمی رہنماؤں کے ارادوں سے باخبر رہنا امریکہ کا بنیادی مقصد ہے‘

Image caption جیمز کلیپر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے غیر ملکی اتحادی بھی امریکی حکام اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جاسوسی کرتے ہیں اور ایسا کرنا معمول کی بات ہے

امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ عالمی رہنماؤں کے ارادوں سے باخبر رہنا جاسوسی کی قومی کارروائیوں کا بنیادی مقصد ہے۔

نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے یہ بات امریکی ایوانِ نمائندگان کے پینل کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہی۔

جاسوسی کی کارروائیوں کے مفصل جائزے کا اعلان

این ایس اے نے جاسوسی کے لیے کیا طریقے استعمال کیے؟

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات امریکی انٹیلی جنس کے اہم ترین قواعد میں شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ دیگر اقوام کی ’بلا امتیاز‘ جاسوسی نہیں کرتا۔

جیمز کلیپر نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب امریکہ کی جانب سے دوست ممالک کے سربراہان اور عوام کی جاسوسی کی خبریں گرم ہیں اور امریکہ سے اس پر وضاحتیں مانگی جا رہی ہیں۔

قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ’غیر ملکی رہنماؤں کے ارادوں سے واقفیت بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ یہ معلومات ہم جمع کرتے ہیں اور ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے غیر ملکی اتحادی بھی امریکی حکام اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جاسوسی کرتے ہیں اور ایسا کرنا معمول کی بات ہے۔

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ کسی اور ملک کے پاس اتنے پڑے پیمانے پر نگرانی کا نظام نہیں جتنا امریکہ کے پاس ہے اور ’اگر کوئی غلطی ہوئی بھی ہے تو وہ انسانی یا مشینی تھی۔‘

جیمز کلیپر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ امریکہ کے نگرانی کے پروگرام کے بارے میں انکشافات کا سیلاب نقصان دہ ہے‘۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جانی ڈیمنڈ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی امریکی رہنماؤں کی جانب سے شرمندگی یا معذرت کی توقع کر رہا تھا تو انہیں مایوسی ہوئی ہو گی۔

ایوانِ نمائندگان کے انٹیلی جنس پینل کے سامنے امریکہ کی قومی سلامتی ایجنسی این ایس اے کے ڈائریکٹر جنرل کیتھ الیگزینڈر بھی پیش ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس، سپین اور اٹلی کے ذرائع ابلاغ میں امریکہ کی جانب سے کروڑوں افراد کا ڈیٹا جمع کرنے کی خبریں ’بالکل جھوٹ‘ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ معلومات جن کی بنیاد پر لوگوں کو لگا کہ این ایس اے یا امریکہ نے تفصیلات جمع کیں، غلط ہیں اور یہ بھی جھوٹ ہے کہ یورپی عوام کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں۔‘

جنرل الیگزینڈر کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ نے جس ڈیٹا کا ذکر کیا ہے اس میں سے زیادہ تر خود یورپی خفیہ اداروں نے اکٹھا کیا اور پھر امریکہ کو بھی فراہم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس ملک کے لیے زیاد اہم ہے کہ ہم تنقید کا سامنا کریں اور اس ملک کا دفاع کریں نہ کہ ایک ایسے پروگرام کو ترک کر دیں جس کا نتیجہ ملک پر حملے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے‘۔

Image caption وائٹ ہاؤس پر عالمی رہنماؤں کی جاسوسی کی اطلاعات اور صدر اوباما کی ان آپریشنز سے بظاہر لاعلمی کے معاملے پر وضاحت کے لیے دباؤ بڑھا ہے

امریکہ کی جانب سے عالمی رہنماؤں اور یورپی آبادی کی نگرانی کا معاملہ سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی جانے والی نئی دستاویزات سے سامنے آیا ہے جن کے مطابق امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی جرمن چانسلر سمیت 34 عالمی رہنماؤں کی نگرانی کرتی رہی ہے۔

ان اطلاعات پر امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہ نے بھی جاسوسی کی کارروائیوں کا مفصل جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

سینیٹر ڈائین فائن سٹائن نے پیر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے اپنے دوست ممالک کے رہنماؤں کی جاسوسی کیا جانا صحیح نہیں اور صدر کی اتحادی ممالک کے رہنماؤں کی جاسوسی کے آپریشنز سے لاعلمی بڑا مسئلہ ہے۔

امریکہ میں صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ عالمی رہنماؤں کی جاسوسی کی اطلاعات اور صدر اوباما کی ان آپریشنز سے بظاہر لاعلمی کے معاملے پر وضاحت کرے۔

براک اوباما نے بھی پیر کی شب ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ قومی سلامتی کی کارروائیوں کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جاسوسی کی تکنیکی صلاحیتیں حد میں رہیں۔

اے بی سی گروپ کے فیوژن نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے براک اوباما کا کہنا تھا کہ ’ہم نے گذشتہ چند برسوں میں دیکھا ہے کہ ان کی صلاحیتوں میں بہتری آئی ہے اور اضافہ ہوا ہے اور اسی لیے میں اب ایک جائزہ لینے کا عمل شروع کروا رہا ہوں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ جو کچھ کرنے کے قابل ہیں ضروری نہیں کہ وہ سب کچھ کریں بھی۔‘

اسی بارے میں