نائیجر: صحرا سے 87 غیر قانونی تارکین وطن کی لاشیں برآمد

Image caption حکام کے مطابق یہ لاشیں الجیریا کی سرحد سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی تھیں

افریقی ملک نائیجر میں امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صحارا ریگستان میں ان کو 87 افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کی ہلاکت پیاس کے باعث ہوئی۔

امدادی کارکن مصطفیٰ الحسن کا کہنا ہے کہ ریگستان میں ان کی گاڑیاں خراب ہو گئی تھیں۔ ان کے بقول یہ لاشیں مسخ شدہ ہیں اور جزوی طور پر کھائی بھی گئی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ امدادی کارکنوں کا خیال ہے کہ یہ افراد تارکین وطن تھے۔

واضح رہے کہ غیر قانونی طور پر افریقہ سے یورپ جانے والے زیادہ تر افراد نائیجر ہی سے گزر کر جاتے ہیں۔ تاہم جو ریگستان کو پار کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں تب بھی ان کی اکثریت شمالی افریقہ کے ممالک میں ہی کام کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

الحسن کے مطابق یہ واقعہ ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے شروع میں پیش آیا ہے۔

الحسن کے بقول جن گاڑیوں پر یہ افراد سفر کر رہے تھے ان میں سے ایک گاڑی ارلت شہر کے بعد خراب ہوگئی تھی۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دوسری گاڑی اس وقت خراب ہوئی جب وہ ارلت سے فاضل پرزے لینے جا رہی تھی۔

حکام کے مطابق گاڑیاں خراب ہونے کے بعد دس افراد پر مشتمل ایک گروپ پیدل ارلت کی جانب روانہ ہوا اور ارلت پہنچنے پر حکام کو آگاہ کیا۔

سوموار کے روز اطلاع تھی کہ پانچ افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ تاہم بدھ کو رضا کاروں اور فوج نے دیگر افرد کی لاشیں بھی برآمد کر لی ہیں۔

حکام کے مطابق یہ لاشیں الجیریا کی سرحد سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی تھیں۔

الحسن کے بقول ہلاک ہونے والوں میں سے 48 لاشیں بچوں اور نوجوانوں کی ہیں۔

الحسن نے ارلت سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا بدترین دن ہے۔

اسی بارے میں