دوحہ: زیدان کا ’ہیڈ بٹ‘ مجسمہ ہٹا دیا گیا

Image caption سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر اس مجسمے کے حوالے سے بڑی تنقید کی گئی تھی

قطر کے حکام نے دارالحکومت دوحہ سے فرانسیسی فٹ بالر زین الدین زیدان کا سولہ فٹ کا کانسی کا مجسمہ ہٹا دیا ہے۔

اس مجسمے میں زیدان دوسرے کھلاڑی کو سینے میں اپنے سر سے ٹکر مار رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2006 میں ورلڈ کپ فائنل میں زیدان نے اٹلی کے دفاعی کھلاڑی میتاراتزی کو اپنی والدہ سے متعلق بد کلامی پر ٹکر ماری تھی۔

یہ مجسمہ چند ہفتے قبل ہی لگایا گیا تھا تاہم سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر اس مجسمے پر بڑی تنقید کی گئی تھی۔

اس مجسمے پر مذہبی گروہوں کا موقف تھا کہ اس مجسمے سے بت پرستی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تو دوسری جانب دیگر افراد کا موقف تھا کہ اس میں تشدد کا عنصر شامل ہے۔

اس مجسمے کو سنہ 2012 میں الجیریا نژاد فرانسیسی آرٹسٹ عادل عبدالصمد نے بنایا تھا۔ دوحہ میں اس مجسمے کو لانے سے قبل اس کی نمائش پیرس میں کی گئی تھی۔ اس نمائش پر قطر کی میوزیم اتھارٹی نے اس مجسمے کو خرید لیا تھا۔

مقامی میڈیا کے مطابق ’ہیڈ بٹ‘ نامی اس مجسمے کو اب عبدالصمد کے دیگر فن پاروں کے ساتھ میوزیم میں رکھا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’زیدان کا مجسمہ قطر میں‘ کے باعث قدامت پرستوں کی جانب سے شدید ردِ عمل آیا۔

ایک ٹوئٹ میں ایک قدامت پسند نے لکھا ہے ’نیا بت مبارک ہو۔‘

تاہم دوسری جانب ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے ’ہیڈ بٹ مجسمے کو کورنیش سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ ایک احمقانہ حرکت ہے۔‘

اسی بارے میں