غزہ: دھماکے میں چار افراد ہلاک

Image caption اسرائیل اور غزہ کے درمیان ہونے والی یہ خونریز ترین جھڑپوں میں سے ایک تھی

اسرائیل اور فلسطینی ذرائع کے مطابق غزہ کی پٹی میں ہونے والے تشدد کے نتیجے میں چار فلسطینی ہلاک جبکہ پانچ اسرائیلی فوجی زخمی ہو گئے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی سپاہی غزہ سے اسرائیل جانے والی سرنگ میں ایک بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے جو گذشتہ ہفتے غزہ سے ملا تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شدت پسند ہلاک ہو گیا۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں تین مزید افراد ہلاک ہوئے۔

خیال رہے کہ یہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان ہونے والی خونریز ترین جھڑپوں میں سے ایک تھی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کی رات اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی سپاہی سرنگ میں لگے بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے کہ شدت پسندوں نے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا۔

حکام کے مطابق اس واقعہ میں پانچ اسرائیلی سپاہی زخمی ہو گئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

اسرائیلی فوجی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد سپاہیوں نے براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد زخمی ہو گیا۔

بیان کے مطابق یہ واقعہ یونس خان نامی مرکزی قصبے کے قریب پیش آیا۔

اسرائیل کی دفاعی افواج کے ترجمان لیفٹینیٹ کرنل پیٹر لرنل نے بتایا کہ مستقبل میں عام شہریوں کے خلاف ان حملوں کو روکنے کے لیے

سرنگ کو ناکارہ بنانے کا مشن نا گزیر تھا۔

اس واقعے کے کئی گھنٹوں بعد اسرائیلی فضائیہ نے ملک کے جنوبی حصے میں موجود ایک اور سرنگ کو بھی نشانہ بنایا۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے حماس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس کے تین ارکان جو اس وقت سرنگ میں موجود تھے، ہلاک ہو گئے۔

اسلامی شدت پسند تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ارکان کا تعلق عزالدین قاسم بریگیڈ سے تھا۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق حماس کے ترجمان سمیع ابو زہری نے اسرائیلی فوجیوں پر ہونے والے اس حملے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اسرائیل کو درد ناک سبق سکھایا گیا۔

اسی بارے میں