چینی مرد اور خواتین میں غیر ملکیوں سے شادی کا بڑھتا رجحان

Image caption چینی مردوں میں غیر ملکی خواتین سے شادی کا رواج کم ہی ہے لیکن اب اس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

’جب سے میں نے ایک چینی شخص سے محبت کی، چھپنا میری زندگی کا حصہ بن گیا۔‘

یہ کہنا ہے امریکہ کی جوسلین ایکنبرگ کا جو سنہ 2003 میں جون لو کے ساتھ رہنے کے لیے شنگھائی آ گئی تھیں۔ لو سے اب ان کی شادی ہو چکی ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار جو مرفی نے چین میں بین الثقافتی شادیوں پر نظر ڈالی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’پہلے طالب علموں کو غیر ملکیوں کے ساتھ ڈیٹ کرنے (تعلقات رکھنے) پر نکال دیا جاتا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو پتہ چل جاتا تو نہ جانے کیا ہوتا، اس لیے ہم نے کسی کو بھی نہیں بتایا کہ لو کیمپس کے باہر میرے ساتھ رہ رہے ہیں۔‘

کسی چینی مرد اور غیر ملکی خاتون کی جوڑی کافی نایاب چیز ہے۔

اپنے ہی ملک کے لوگوں کے درمیان وہ جلد ہی تنہا ہو گئیں۔ ان کی سہیلیاں چینی مردوں کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کھلے عام کر دیتی تھیں اور اس سے وہ بے چین ہو جاتی تھیں۔

ایکنبرگ کہتی ہیں ’ایک چینی شہری سے شادی کرنے کی وجہ سے میں تنہا محسوس کرنے لگی تھی اور دوسرے لوگوں سے دوستی کرنا چاہتی تھی۔‘

انہوں نے سنہ 2009 میں اپنے تجربات اپنے بلاگ، ’سپیکنگ آف چائنا‘ میں لکھنا شروع کیے۔

ایکنبرگ کہتی ہیں کہ اب انہیں ہر مہینے بڑی تعداد میں ایسے چینیوں کے ای میلز آتے ہیں جو غیر ملکیوں سے ملنا اور ان کے ساتھ ڈیٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔ یا ایسے ای میلز جن میں لوگوں کے ساتھی نئے ہوں یا کسی دیگر تہذیب اور معاشرے کے ساتھ تعلقات میں مشکلیں آ رہی ہوں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1978 تک مین لینڈ چائنا میں ایک بھی بین الثقافتی شادی درج نہیں کی گئي تھی۔

لیکن اب غیر ملکیوں سے شادی کرنے والے چینیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف سنہ 2012 میں 53 ہزار ایسی شادیاں ہوئيں۔

بیجنگ میں ایک سرکاری اخبار کے سابق مدیر اور ’بہائنڈ دا ریڈ ڈور: سیکس ان چائنا‘ یا سرخ دروازے کے پیچھے: چین میں سیکس نامی کتاب کے مصنف رچرڈ برگر کہتے ہیں کہ یہ تبدیلی چین میں اقتصادی اصلاحات اور’کشادگی‘ کے بعد آئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’چین میں ایک جنسی انقلاب سا آ گیا ہے لوگ جس طرح کے کپڑے پہنتے ہیں، اہم شہروں کی سڑکوں پر ہاتھ پکڑ کر گھومتے ہیں اور نوجوانوں میں جنس کے بارے میں جھجھک کم ہو رہی ہے۔‘

برگر کہتے ہیں کہ اس انقلاب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب نوجوانوں کو اپنے ساتھی کے انتخاب میں اپنے ماں باپ سے زیادہ آزادی ملتی ہے۔

Image caption چین کے بیرونی دنیا سے روابط میں اضافے کے باعث وہاں کی ثقافت میں تبدیلی آئي ہے

جون کہتے ہیں ’میرے لیے ایک مغربی خاتون کے ساتھ وقت گزارنا اور شادی کرنا ایک طرح سے باغیانہ قدم ہی تھا۔ میرے والد نے مجھے دھمکی دی تھی کہ غیر ملکی دوست ہو سکتی ہیں لیکن گرل فرینڈ یا بیوی نہیں۔‘

لیکن اس کے برعکس جون اپنے ساتھیوں میں ’مقبول‘ ہیں جو ان کی بیوی کے مغربی ہونے کی وجہ سے ان کی عزت کرتے ہیں۔

بین الثقافتی شادیوں میں چینی خواتین اور غیر ملکی مردوں کی تعداد اس کے برعکس ہے۔ بہت سی چینی خواتین غیر ملکی مردوں کے ساتھ وقت گزار رہی ہیں یا شادی کر رہی ہیں۔

چین میں سیکس کے اہم دانشوروں میں لی ین ہے کا شمار ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ چینی مردوں میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔‘

برگر اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’چین کے مرد اس کے تصور کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں کہ وہ خاندان کے سربراہ ہیں ، طاقت انہیں کے پاس ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’مغربی خواتین کے لیے یہ کافی خوفزدہ کرنے والی بات ہے کیونکہ انہیں اعلیٰ درجے کی تعلیم حاصل ہوتی ہے، زیادہ پیسہ ہوتا ہے یا کمانے کی صلاحیت ہوتی ہے اور جنسی تعلقات کا زیادہ تجربہ ہوتا ہے۔‘

ایک اداکارہ اور ڈیٹنگ گرو يوئي زو کئی سال امریکہ میں رہنے کے بعد چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اپنے گھر واپس لوٹيں تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئیں کہ بڑی تعداد میں غیر ملکی مرد اور چینی خواتین ساتھ رہ رہے تھے۔

وہ کہتی ہیں: ’مغرب میں ایشیائی خواتین کو دل کو لبھانے والی خوبصورتی کا حامل مانا جاتا ہے، جو عوامی زندگی میں تو لائبریرین ہوتی ہیں لیکن بیڈروم میں عجیب۔ چین میں مغربی تصور کا حقیقت سے ملن ہوتا ہے۔‘

يوئي زو کہتی ہیں کہ جب کسی سے ملنے کی بات آتی ہے تو چینی خواتین کافی جارحانہ ہو جاتی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اس کی وجہ سماجی دباؤ اور 27 سال کی عمر میں ہی ’بچی کھچی عورتیں‘ کہلانے کا ڈر ہے۔

ایک ذہنیت یہ ہے کہ: ’اگر مجھے محبت چاہیے تو اسے مجھے ہی تلاش کرنا ہوگا۔ کوئی دوسرا میرے لیے یہ نہیں کر سکتا۔‘

یہ عین ممکن ہے کہ کچھ اہم مخلوط جوڑے جو چین اور مغرب کی خبروں میں رہتے ہیں وہ اس چلن کو سمت و رفتار عطا کر رہے ہوں۔

Image caption وینڈی ڈینگ کی شادی عالمی میڈیا کے بڑے نام روپرٹ مرڈوک سے ہوئی تھی

’ٹائیگر وائف‘ کے نام سے معروف وینڈی ڈینگ کی شادی عالمی میڈیا کے بڑے نام روپرٹ مرڈوک سے ہوئی تھی۔ جون میں الگ ہونے سے پہلے ان کی شادی 14 سال تک قائم رہی۔

اسی سال کے آغاز میں برطانوی اداکار ہیو گرانٹ نے اعلان کیا تھا کہ ان کے دوسرے بچے کو ان کی چینی ساتھی ٹنگلین ہاگ جنم دینے والی ہیں۔

شنگھائی کے سماجی مرکز (سی سی ایس) میں ایک ازدواجی تعلقات کی مشیر ای چنگ کہتی ہیں: ’بین الثقافتی شادیاں پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔‘

شادی یا محبت کرنے والے جوڑے وہاں مشورہ لینے آتے ہیں کیونکہ وہ محبت تو کرتے ہیں لیکن روز مرہ کی زندگی میں انہیں چیلنجوں سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جوسلين بتاتی ہیں کہ ’ایک بار جون کےساتھ میرے تعلقات میں ذاتی وجوہات اور ثقافتی تفاوت کی وجہ سے ایک زبردست طوفان آ گیا تھا۔‘

اپنے بلاگ میں وہ لکھتی ہیں: ’جب آپ کسی دوسرے کلچر کے شخص سے محبت کرتے ہیں تو یہ بھولنا آسان ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی مشکلات کے حل اور بات چیت کرنے کے لیے مختلف طریقے سیکھ لیے ہیں۔‘

اسی بارے میں