مصر:مرسی معزولی کے بعد پہلی بار منظرِ عام پر

Image caption مظاہروں کے خدشے کے پیشِ نظر مقدمے کی سماعت کا مقام تبدیل کیا گیا ہے

مصر میں فوج کے ہاتھوں معزول ہونے والے صدر محمد مرسی کے خلاف مقدمے کی سماعت پیر سے شروع ہو رہی ہے اور ملک کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کے لیے انہیں بذریعہ ہیلی کاپٹر قاہرہ کی پولیس اکیڈمی پہنچا دیا گیا ہے۔

رواں سال جون میں ملک میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے بعد تین جولائی کو صدر مرسی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور یہ پہلا موقع ہے کہ معزولی کے بعد محمد مرسی منظرِ عام پر آ رہے ہیں۔

مصر: خوش امیدی سے المیے تک

صدر مرسی پر مقدمہ چلایا جائے گا

محمد مرسی کے علاوہ اخوان المسلمین کے 14 دیگر رہنماؤں پر مظاہرین کے قتل پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق کمرۂ عدالت میں محمد مرسی کے علاوہ اعصام الاریان، محمد البلتاغی اور احمد عبدالعاطی جیسے اخوان المسلمین کے رہنما بھی موجود ہیں۔

ابتدائی طور پر یہ مقدمہ قاہرہ کی تورا نامی جیل میں چلایا جانا تھا لیکن بظاہر مظاہروں کے خدشات کے پیشِ نظر اتوار کو رات گئے اس کا مقام تبدیل کر دیا گیا۔

محمد مرسی کے حامیوں کی جانب سے پیر کو احتجاجی مظاہروں کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز کو چوکس کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ صورتحال کو معمول پر رکھنے کے لیے بیس ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔

معزول صدر پر الزام ہے کہ چار اور پانچ دسمبر 2012 کو انہوں نے صدارتی محل کے باہر جمع مظاہرین کے خلاف ’تشدد اور قتل پر اکسایا‘۔ ان مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کی جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم ان کے حامی کہتے ہیں کہ محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی اور ان کا مقدمہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے بھی مصری سکیورٹی سروس پر بلا احتساب کارروائی کا الزام لگایا ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کا کہنا ہے کہ معزول صدر مرسی کے خلاف مقدمہ مصر میں دو طاقتور دھڑوں کے درمیان طاقت کا مقابلہ ہے جس میں جہاں امن و امان برقرار رکھنا فوج کا امتحان ہوگا وہیں ایک مشکل وقت میں اخوان المسلمین کی مزاحمت کی صلاحیت بھی جانچی جائے گی۔

محمد مرسی کے خلاف مقدمے کی عدالتی کارروائی شروع ہونے سے ایک دن پہلے اتوار کوامریکی وزیرِ خارجہ جان کیری مصر کے غیر اعلانیہ دورے پر پہنچے تھے۔

Image caption اتوار کوامریکی وزیرِ خارجہ جان کیری مصر کے غیر اعلانیہ دورے پر پہنچے تھے

دورے میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے مصر میں ہر قسم کے تشدد کے خاتمے اور کلُی جمہوریت کی جانب پیش رفت پر زور دیا۔

جان کیری نے مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد قاہرہ کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصر، امریکہ کا اہم شراکت دار ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے قاہرہ میں فوج کے حمایت یافتہ عبوری حکومت کے وزیر خارجہ نبیل فہمی سے ملاقات کے بعد اخباری کانفرنس میں کہا کہ ان کا ملک مصری حکومت کے ساتھ ملکے کام کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

جولائی میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد ملک بھر میں ان کے حق اور مخالفت میں پرتشدد مظاہروں کا آغاز ہو گیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور صورتحال تاحال کشیدہ ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ معزول صدر محمد مرسی خلاف مقدمہ چلانے سے لوگ پریشان ہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا ہو گا اور توقع کر رہے ہیں کہ مصر میں کشیدہ صورتحال میں مزید اضافہ ہو گا۔

مرسی پر مقدمے کی سماعت سے ایک دن پہلے ہی اتوار کو مصر کے شہر اسماعلیہ کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جن سے تشدد کے مزید واقعات کے بارے میں پائے جانے والے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں