پاکستان، بھارت اور نائجیریا کے شہریوں کے لیے ’ویزا بانڈ‘ سکیم ختم

برطانیہ
Image caption اس منصوبے کا مقصد لوگوں کو برطانیہ میں مختصر مدت کے ویزہ کی مدت ختم ہونے کے بعد رہنے سے روکنا ہے۔

برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق حکومت نے چند ایسے ممالک کے شہریوں کے لیے مجوزہ ’سکیورٹی ضمانت‘ کے منصوبے کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جن کے بارے میں خدشہ ہوتا ہے کہ وہ برطانیہ آکر اپنے ملک واپس نہیں جائیں گے۔

برطانوی وزارتِ داخلہ نے ایک برطانوی اخبار کو تصدیق کی ہے کہ اس مجوزہ پالیسی پر کام روک دیا جائے گا۔

یہ فیصلہ نائب وزیراعظم نِک کلیگ کی جانب سے مخالفت کے بعد کیا گیا جنہوں نے اسے روکنے کی دھمکی دی تھی۔

اس منصوبے کا مقصد ان چند ممالک میں سے برطانیہ آنے والے افراد کو روکنا ہے جن میں پاکستان، بھارت اور نائجیریا شامل ہیں۔

ان ممالک کو ویزا کے معاملے میں ’ہائی رسک‘ یا زیادہ خطرے والے ممالک کہا جاتا ہے کیونکہ ان ممالک سے آنے والے شہریوں کا برطانیہ میں مختصر مدت کے ویزے کے بعد قیام کرنے کا تناسب زیادہ ہے۔

اس منصوبے کے تحت ویزا حاصل کرنے والے افراد کو تین ہزار پاؤنڈ کے قریب رقم برطانیہ آمد سے قبل جمع کروانی پڑتی جو ان کے واپس نا جانے کی صورت میں ضبط کر لی جاتی۔

نائب وزیراعظم نِک کلیگ نے ابتدائی طور پر اس تجویز کو مارچ میں پیش کیا تھا جس کے تحت ’ہائی رسک‘ ممالک سے آنے والے شہریوں کو جن کے ویزے عام طریقے پر رد کیے جا چکے ہوں گے ان کو اس طریقے سے ویزا جار کیا جاسکتا تھا۔

بزنس سیکرٹری ونس کیبل نے اس منصوبے کے اعلان کے بعد دعویٰ کیا کہ نائب وزیر کے منصوبے میں ایک ہزار پاؤنڈ کی ضمانت کی بات کی گئی تھی جس کو بعض کنزرویٹو پارٹی کے اراکین نے جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا۔

ونس کیبل نے ستمبر میں کہا تھا کہ جب نِک کلیگ نے کہا کہ اگر برِ صغیر سے مثال کے طور پر کسی کو ویزا نہیں ملتا تو وہ متبادل طور پر یہ طریقہ استعمال کر کے ضمانت دے سکتا ہے تو اسے بعض حکومتی ساتھیوں نے منفی طریقے سے غلط انداز میں پیش کیا اور یہ کہا گیا کہ ہر ایک جو برطانیہ آئے گا اسے ایک بڑی رقم ضمانت کے طور پر دینی پڑے گی۔

ونس کیبل نے یہ بھی کہا ضمانت کی رقم کے زیادہ ہونے سے بھارت میں شدید ’غصے‘ کا اظہار کیا گیا۔

اس سال کے آغاز میں بی بی سی کے اینڈریو مار شو میں نِک کلیگ نے کہا تھا کہ ’یقیناً ایک مخلوط حکومت میں ہوتے ہوئے میں چیزوں کو ہونے سے روک نہیں سکتا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں بالکل کسی ضمانت کے طریقۂ کار میں دلچسپی نہیں رکھتا جو اس ملک میں آنے والے افراد سے امتیازی سلوک کرتے ہوئے انہیں ذِک پہنچائے۔‘

یہی منصوبہ اس سے قبل سابقہ لیبر حکومت نے کئی بار پیش کیا مگر اس پر عملدرآمد کرنے میں کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔

لیبر پارٹی کے رکن پارلیمان اور دارلعوام کی داخلہ امور کی کمیٹی کے چئیرمین کیتھ ویز نے کہا کہ ’وزیر داخلہ نے اس منصوبے کو ختم کر کے درست فیصلہ کیا ہے اور جس وقت انہوں نے اس کا اعلان کیا تھا میں نے انہیں خبردار کیا تھا کہ ضمانت کا عمل کام نہیں کرے گا۔

اس افسوسناک عمل کے دوران حکومت نے کئی بیرونی حکومتوں کو ناراض کیا اور ہزاروں متوقع ملک میں آنے والوں کو مغالطے میں ڈالا۔

اس منصوبے کے اعلان پر بھارت کی تاجر برادری نے برطانوی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی تھی اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری نے اسے ’انتہائی امتیازی‘ اقدام قرار دیا تھا۔

حکومتِ برطانیہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ویزہ کی مدت کے بعد واپس نہ جانے والوں کی تعداد ملک کے امیگریشن نظام کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے اور وہ ان ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں سے آنے والے لوگ اس زمرے میں آتے ہیں۔

برطانوی وزیرِداخلہ ٹریسا مے نے اُس وقت کہا تھا کہ ’ہماری دلچسپی بانڈ یا ضمانت رکھنے کے نظام میں ہے جس سے گھومنے پھرنے کے ویزہ پر آنے والے لوگوں کو برطانیہ میں ویزہ ختم ہونے کے بعد رہنے سے روکا جائےاور پبلک سروس میں ان لوگوں پر خرچ ہونے والی رقم وصول کی جاسکے‘۔

اسی بارے میں