برما:روہنجیا مسلمانوں کی کشتی الٹ گئی، درجنوں لاپتہ

Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق روہنجیا دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی قوموں میں سے ایک ہیں

برما میں حکام کے مطابق خلیج بنگال میں روہنجیا مسلمان پناہ گزینوں کی ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں درجنوں افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔

برما میں پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں بچوں اور عورتوں سمیت 70 کے قریب روہنجیا مسلمان سوار تھے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ کشتی میں سوار افراد برما کی رخائن ریاست کے دارالحکومت کے نزدیک واقع ایک کیمپ سے اس کشتی میں روانہ ہوئے تھے۔

امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ نسلی فسادات کی وجہ سے بے گھر ہونے والے روہنجیا مسلمانوں کی خطرناک سمندری راستے سے نقل مکانی بڑھ رہی ہے۔

تنظیموں کے مطابق مشکلات کے سبب سمندری راستے سے نقل مکانی کرنے والے روہنجیا مسلمانوں کی زندگیوں کو خراب موسم، کشتیوں کے انجن ناکارہ ہونے سے خطرہ لاحق ہوتا ہے اور ان کو تھائی لینڈ میں انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ فروخت کر دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے 1500 کے قریب لوگوں نے کشتیوں کے ذریعے علاقہ چھوڑنے کی کوشش کی۔

گذشتہ سال برما کی مغربی ریاست رخائن میں ہونے والے نسلی فسادات میں 190 افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً ایک لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ برما میں مسلمانوں اور بُدھوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

رخائن میں ہونے والے فسادات بدھ مت کے ماننے والے اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان تھے جنہیں برمی شہری کے طور پر تسلیم نہیں کيا جاتا ہے۔فسادات کی وجہ سے دونوں فرقے ایک دوسرے سے علیحدہ رہتے ہیں اور بہت سے روہنگیا مسلمان عارضی خیموں اور کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمینسٹی انٹرنیشنل کی ایشیا پیسفک خطے کی ڈپٹی ڈائریکٹر ازیبیلا ارادون کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو کئی مرتبہ کہا گیا ہے کہ وہ رخائن ریاست میں اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے افراد کی مناسب رہائش کا انتظام کرے۔ حکومت نے اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے تو ہزاروں افراد کی زندگی خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔‘

برما میں رہنے والے روہنجیا مسلمانوں کو برما کی حکومت نے شہریوں کا درجہ بھی نہیں دیا ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق روہنجیا دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی قوموں میں سے ایک ہیں۔