میں آج بھی مصر کا صدر ہوں: مرسی کا جج کو جواب

Image caption مظاہروں کے خدشے کے پیشِ نظر مقدمے کی سماعت کا مقام تبدیل کیا گیا ہے

مصر کے معزول صدر محمد مرسی نے قاہرہ میں ایک عدالت کے سامنے کہا ہے کہ ان کے خلاف قائم کیا جانے والا مقدمہ غیر قانونی ہے اور وہ اب بھی مصر کے صدر ہیں۔

صدر مرسی اور ان کی حکومت میں شامل اخوان المسلیمون کے چودہ ارکان پر سنہ دو ہزار بارہ میں ایوان صدر کے باہر مظاہرین کو قتل کرنے پر اکسانے کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے جس کی باقاعدہ سماعت سوموار سے شروع ہوئی۔

مصر: خوش امیدی سے المیے تک

صدر مرسی پر مقدمہ چلایا جائے گا

صدر مرسی کے بیان اور ان کی طرف سے یونیفارم پہننے سے انکار کرنے پر مقدمے کی سماعت آٹھ جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

قاہرہ میں عدالت کے باہر اور کئی دوسرے جگہوں پر مظاہرے ہوئے۔

صدر مرسی کو اس سال جولائی میں فوج نے اقتدار سے علیحدہ کر دیا تھا۔

معزول صدر مرسی کو پولیس اکیڈمی سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے عدالت تک لایا گیا۔

مرسی کے علاوہ دیگر ملزمان جن میں اعصام الاریان، محمد البلتاغی اور احمد عبدالعاطی کو بکتر بند گاڑیوں میں عدالت تک پہنچایا گیا۔

مصر کے ریڈیو کے مطابق سابق صدر مرسی کو کچھ فاصلے سے نظر آئے اور وہ عام لباس میں پہنے ہوئے تھے۔ عدالت سے کسی ٹی وی چینل کو کوئی ریکارڈنگ یا نشریات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

سابق صدر مرسی جب کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو وہ نیلے رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے تھے اور انہوں نے مصر میں ملزموں کے لیے مخصوص سفید رنگ کا لباس پہننے سے انکار کر دیا۔

عدالت میں ایک جنگلے کے اندر موجود باقی ملزمان نے ’غیر قانونی غیر قانونی‘ کے نعرے بلند کیے۔

عدالت نے جب ان سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے بڑا تلخ جواب دیا۔

معزول صدر مرسی نے کہا: ’میرا نام ڈاکٹر محمد مرسی ہے۔ میں صدر کا قانونی طور پر صدر ہوں۔ میں اس مقدمے کو نہیں مانتا۔‘

اس موقعے پر سماعت کچھ دیر کے لیے روک دی گئی اور پھر سماعت کو آٹھ جنوری تک ملتوی کر دیا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ مقدمہ قاہرہ کی تورا نامی جیل میں چلایا جانا تھا لیکن بظاہر مظاہروں کے خدشات کے پیشِ نظر اتوار کو رات گئے اس کا مقام تبدیل کر دیا گیا۔

محمد مرسی کے حامیوں کی جانب سے پیر کو احتجاجی مظاہروں کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز کو چوکس کر دیا گیا تھا

معزول صدر پر الزام ہے کہ چار اور پانچ دسمبر 2012 کو انہوں نے صدارتی محل کے باہر جمع مظاہرین کے خلاف ’تشدد اور قتل پر اکسایا‘۔ ان مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کی جھڑپوں میں کم از کم دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تاہم ان کے حامی کہتے ہیں کہ محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی اور ان کا مقدمہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے بھی مصری سکیورٹی سروس پر بلا احتساب کارروائی کا الزام لگایا ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کا کہنا ہے کہ معزول صدر مرسی کے خلاف مقدمہ مصر میں دو طاقتور دھڑوں کے درمیان طاقت کا مقابلہ ہے جس میں جہاں امن و امان برقرار رکھنا فوج کا امتحان ہوگا وہیں ایک مشکل وقت میں اخوان المسلمین کی مزاحمت کی صلاحیت کا بھی امتحان ہو گا۔

محمد مرسی کے خلاف مقدمے کی عدالتی کارروائی شروع ہونے سے ایک دن پہلے اتوار کوامریکی وزیرِ خارجہ جان کیری مصر کے غیر اعلانیہ دورے پر پہنچے تھے۔

Image caption اتوار کوامریکی وزیرِ خارجہ جان کیری مصر کے غیر اعلانیہ دورے پر پہنچے تھے

دورے میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے مصر میں ہر قسم کے تشدد کے خاتمے اور کلُی جمہوریت کی جانب پیش رفت پر زور دیا۔

جان کیری نے مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد قاہرہ کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصر، امریکہ کا اہم شراکت دار ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے قاہرہ میں فوج کے حمایت یافتہ عبوری حکومت کے وزیر خارجہ نبیل فہمی سے ملاقات کے بعد اخباری کانفرنس میں کہا کہ ان کا ملک مصری حکومت کے ساتھ ملکے کام کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

جولائی میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد ملک بھر میں ان کے حق اور مخالفت میں پرتشدد مظاہروں کا آغاز ہو گیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور صورتحال تاحال کشیدہ ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ معزول صدر محمد مرسی خلاف مقدمہ چلانے سے لوگ پریشان ہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا ہو گا اور توقع کر رہے ہیں کہ مصر میں کشیدہ صورتحال میں مزید اضافہ ہو گا۔

مرسی پر مقدمے کی سماعت سے ایک دن پہلے ہی اتوار کو مصر کے شہر اسماعلیہ کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جن سے تشدد کے مزید واقعات کے بارے میں پائے جانے والے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں