ایڈورڈ سنوڈن کو معافی نہیں دی جا سکتی: امریکہ

Image caption ایڈورڈ سنوڈن فی الحال عارضی طور پر روس میں قیام پذیر ہیں

امریکی قانون سازوں نے امریکہ کی جانب سے نگرانی کے راز افشا کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کو معافی دینے کا امکان رد کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مشیر ڈین فائفر نے کہا ہے کہ ’سنوڈن نے امریکی قانون کی خلاف ورزی کی۔ انہیں امریکہ واپس آ کر قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔‘

این ایس اے نے جاسوسی کے لیے کیا طریقے اپنائے؟

ایڈورڈ سنوڈن نے حال ہی میں ایک جرمن سیاستدان کو تحریر کیے گئے خط میں عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کے خلاف جاسوسی کے الزامات ختم کروانے کے لیے امریکہ کو راضی کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سچ بولنا کوئی جرم نہیں‘ اور امریکی حکومت ان پر جاسوسی کا الزام عائد کر کے انہیں ہراساں کر رہی ہے۔

تیس سالہ سنوڈن امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے کی جانب سے دنیا میں ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کے نظام کی نگرانی کے پروگرام کا راز افشا کرنے کے بعد رواں برس جون میں امریکہ سے فرار ہو کر روس پہنچ گئے تھے۔

انہیں روسی حکام نے عارضی طور پر پناہ فراہم کی ہے اور وہ جولائی 2014 تک روس میں رہ سکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے جرمنی کے ایک رکنِ پارلیمان نے ان سے روس میں ملاقات کے بعد کہا تھا کہ سنوڈن جرمن حکومت کو این ایس اے کی جاسوسی کے عمل کے بارے میں معلومات دینے کو تیار ہیں۔

اتوار کو امریکی صدر کے دفتر نے کہا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کو معافی دینے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہ سینیٹر ڈیان فینسٹین نے بھی کہا ہے کہ اگر ایڈورڈ سنوڈن حقیقت میں غلط کاموں سے پردہ اٹھانے والے ہوتے تو وہ اس بارے میں ان کی کمیٹی کو مطلع کرتے جو کہ انہوں نے نہیں کیا۔

امریکی ٹی وی سی بی ایس کو ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ان سے ملتے اور ان کی معلومات کا جائزہ لیتے لیکن ایسا نہیں ہوا اور اب انہوں نے ہمارے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ میرے خیال میں اس بارے میں جواب یہی ہوگا کہ انہیں معافی نہیں مل سکتی۔‘

امریکہ کی جانب سے نگرانی کے عالمی پروگرام پر دنیا بھر سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے اور امریکی حکام سے اس پروگرام پر کڑی نظر رکھنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

ان اطلاعات کے بعد کہ امریکہ نے جرمن چانسلر آنگیلا مرکل کے فون کی کئی برس تک نگرانی کی، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر کشیدگی بھی پیدا ہوئی ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ نے غیر ملکی رہنماؤں کی نگرانی کے عمل کا دفاع کیا ہے تاہم امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ کچھ معاملات میں جاسوسی کرنے والوں نے حدود پار کیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ صدر اوباما سے اس معاملے پر بات کریں گے تاکہ مستقبل میں این ایس اے کو ایسے اقدامات سے روکا جا سکے۔

اسی بارے میں