کبھی کبھار کشیدگیاں، غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں: وائٹ ہاؤس

Image caption مریکی وزیر خارجہ جان کیری نے عندیہ دیا کہ جس حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت ہوئی ہے وہ صحیح تھا

امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان کبھی کبھار ’کشیدگیاں‘ اور ’غلط فہمیاں‘ پیدا ہو جاتی ہیں تاہم اس نے غیر واضح طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کا دفاع کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا ہے ’دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں اور کشیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ دونوں ممالک روابط کو بہتر کرنے کے لیے کام کرتے رہیں گے، اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی سے سکیورٹی تعاون تک مختلف شعبوں میں تعاون میں بھی پیش رفت ہو گی۔‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت ہو گئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ پر کئی شدت پسند کارروائیوں کے الزامات ہیں جن میں 2010 میں نیو یارک کے ٹائمز سکوئر میں دھماکے کی ناکام کوشش بھی شامل ہے۔

جے کارنی نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان اور حکیم اللہ محسود نے کھلے عام امریکہ اور امریکیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے عندیہ دیا کہ جس حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت ہوئی ہے وہ صحیح تھا۔ یہ بات انہوں نے سعودی عرب کے شہر ریاض میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے تحفظات کا احساس ہے: ’ہمیں پاکستان کے تحفظات کا علم ہے اور امید ہے کہ ہم حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔‘

’ہم پاکستان کے ساتھ مل کر سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے ذریعے کام کرنا چاہتے ہیں جن کا آغاز ہی اسی قسم کی دشواریوں کو دور کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔‘

انہوں نے ایک سوال میں کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت ڈرون حملے میں ہوئی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا ’حکیم اللہ محسود وہ شخص تھا جس کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ اس نے کئی امریکیوں، افغانیوں اور پاکستانیوں کو قتل کیا تھا۔ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اس شخص اور اس کی تنظیم کے ہاتھوں مارے گئے۔‘

واضح رہے کہ سوموار کو وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ ڈرون حملوں کے افسوسناک اور قابل مذمت سلسلے کے جاری رہنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مستقل طور پر شدت پسندی کے خاتمے اور علاقے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کے نقطۂ نظر کو سمجھا ہی نہیں گیا۔

دریں اثنا نیٹو کے سربراہ آنرس فو راسموسن نے پیر کے روز پاکستان پر زور دیا ہے کہ نیٹو سپلائی بند نہ کی جائے۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’میں پراعتماد ہوں کہ پاکستانی حکام سپلائی جاری رکھیں گے کیوں کہ یہ خود پاکستان کے مفاد میں ہے اور اس سے خطے کی سکیورٹی اور استحکام پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے ڈرون حملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے پورے خطے کو خطرات لاحق ہیں۔

’پاکستان اور افغانستان کی سکیورٹی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ ایک ملک میں امن قائم ہو جائے اور دوسرے میں نہیں۔‘

یاد رہے کہ سوموار کو خیبر پختونخوا اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 20 نومبر تک امریکی جاسوس طیارے روکنے اور نیٹو سپلائی بند کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں وگرنہ صوبائی حکومت خود اپنا لائحہ عمل اختیار کرے گی ۔

صوبائی اسمبلی کا یہ اجلاس عمران خان کے اس بیان کے بعد طلب کیا گیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ نیٹو سپلائی بند کریں گے چاہے اس کے لیے انھیں خیبر پختونخو حکومت کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

اسی بارے میں