جاسوسی کا الزام: برطانوی سفارت کار کی طلبی

Image caption برطانوی وزارتِ خارجہ نے جاسوسی کے مبینہ الزمات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے

جرمنی کی وزارتِ خارجہ نے برطانوی سفارت کار کو طلب کر کے ان سے مبینہ جاسوسی کے الزامات کا جواب مانگا ہے۔

برطانوی اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ کا کہنا ہے کہ برلن میں قائم برطانوی سفارت خانے کو شاید ٹاپ سیکرٹ رابطہ آفس کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

اخبار کے مطابق امریکی کی قومی سلامتی ایجنسی (این ایس اے) کے افشا کردہ دستاویزات کے مطابق برطانوی سفارت خانے کی چھت پر ہائی ٹیک سازو سامان کی مدد سے جاسوسی کی جا سکتی تھی۔

دوسری جانب برلن کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی کارروائی بین الاقوامی قانون کے خلاف ورزی ہو گی۔

جرمنی کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیرِخارجہ گوئڈو ویسٹرویلے نے برطانوی سفیر سائمن میکڈانلڈ سے کہا ہے ہے کہ وہ ان دعوؤں کا جواب دیں۔

ترجمان کا کہنا ہے یورپی شعبے کے سربراہ سے پوچھا گیا ہے کہ وہ برطانوی میڈیا میں چھپنے والی ان اطلاعات جس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ برطانوی سفارتی مشن کے احاطے سے مواصلات کے نظام میں ہونے والے خلل بین الاقوامی اصول کے خلاف ہے، کا جواب دیں۔

خیال رہے کہ برطانوی اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ کی یہ رپورٹ این ایس اے کی افشا کردہ ان دستاویزات پر مشتمل ہے جو امریکہ کے خفیہ راز افشاء کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن سامنے لائے تھے۔

برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ این ایس اے کی دستاویزات کے مطابق ماضی میں فضا سے لی گئی تصاویر اور جاسوسی کی کارروائیوں میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ برطانیہ جرمن پارلیمان اور چانسلر انگیلا میرکل کے دفاتر کے قریب جاسوسی کے خفیہ مراکز چلاتا رہا ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزارتِ خارجہ نے جاسوسی کے مبینہ الزمات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں