وادیِ اردن: اسرائیل اور فلسطینی مذاکرات میں اہم کیوں؟

اردن اور غزہ کے مغربی کنارے پر موجود اراضی پر قطار در قطار کجھور کے درخت ایستادہ ہیں۔ یہ جگہ درجنوں اسرائیلی بستیوں اور فلسطینی دیہات سے دکھائی دیتی ہے۔

یہ وادیِ اردن ہے جس پر 1967 میں اسرائیل نے چھ دن کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔ اس جگہ کا زیادہ تر حصّہ اب اسرائیلی فوج اور اس کے زیرِ انتظام ہے۔

یہ زرخیر لیکن زیادہ تر پسماندہ پٹی مغربی کنارے کا ایک چوتھائی حصہ ہے، لیکن یہ مستقبل میں فلسطینی ریاست کے وجود کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کی وجہ سے اس وادی کو ترک نہیں کر سکتا۔

اگست میں شروع ہونے والے امن مذاکرات رازداری سے جاری ہیں لیکن اس وادی کا مستقبل ان نکات میں شامل ہے جس پر فلسطینی اور اسرائیلی مذاکرات کار کوئی مصالحت نہیں کر پا رہے۔

جفتلک نامی گاؤں میں ایک فلسطینی خاندان کے کھیت میں کجھوروں کی چنائی لگ بھگ ختم ہونے کو ہے۔ نوجوان درختوں سے پھل گرا رہے ہیں جبکہ بڑے ان پھلوں کو ڈبوں میں بند کر رہے ہیں۔ فارم کے مالک حزا دراغما بتاتے ہیں کہ اسرائیلی قصبے کی وجہ سے کھجور کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا ’ اسرائیلی کسانوں کو فلسیطینی کسانوں کی نسبت زیادہ سہولیات میّسر ہیں۔‘

’ان کے پاس پانی اور وسائل ہیں، اسے حکومت کی سہولیات اور منڈی میں تجارت کی سہولت حاصل ہیں۔ وہ یورپ میں اپنی کھجوریں فروخت کرتا ہے۔ ہم برآمد نہیں کر سکتے، ہم صرف مغربی کنارے میں ہی کم قیمت میں اپنی کھجوریں بیچتے ہیں۔‘

اس گاؤں اور مغربی کنارے کے درمیان تمام رابطہ راستوں پر اسرائیل کا کنٹرول ہے جس کی وجہ سے فلسطینیوں کے لیے ممکن نہیں کہ وہ بلاواسطہ اپنی پیداوار برآمد کر سکیں۔ انہیں یا تو اپنی پیداور اسرائیلی کمپنیوں کو فروخت کرنا پڑتی ہے یا اسے مغربی کنارے میں ہی فروخت کرنا پڑتا ہے۔

حزا کے والد 80 سالہ ماجد اچھے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسرائیلی قبضے سے قبل وہ دریائے اردن سے اپنی فصلوں کو سیراب کرتے تھے۔

دفاعی حد

اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے لیکن اسرائیل اسے قبول نہیں کرتا۔

اس سرحدی علاقے میں بنائی گئی پہلی بستی قومی تحفظ کے نام پر بنائی گئی۔ تاہم اب یہ وادی نو ہزار آباد کاروں کا گھر ہے اور یہاں 56 ہزار فلسطینی رہتے ہیں۔

آباد کاروں کی علاقائی کونسل کے سربراہ ڈیوڈ ایلہیانی کا کہنا ہے کہ ’ہم لوگوں کو حکومت نے وادیِ اردن میں آباد ہونے کے لیے بھیجا ہے۔‘

’ایک یہودی کی حیثیت سے میں آپ کو بتاؤں کہ ہم خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ وادیِ اردن کو اسرائیل کے زیرِ اقتدار رہنا چاہییے۔ میں یہ بائبل کے دعوے کی وجہ سے نہیں کہہ رہا، میں یہ تحفظ کے نقطۂ نظر سے کہہ رہا ہوں۔ ہم یہاں رہ کر تل ابیب اور تمام اسرائیل کے لوگوں کا تحفظ کر رہے ہیں۔‘

’اگر عرب دنیا اور اسرائیل کے درمیان کچھ ہوتا ہے تو یہ دفاعی لکیر ہو گی۔‘

یہاں سرحد کے پاس اسرائیل فوجی گشت کرتے دیکھے جا سکتے ہیں اور جگہ جگہ باردوی سرنگوں کی موجودگی سے خبردار کرتے ہوئے سائن بورڈز موجود ہیں۔

اکتوبر میں اپنے پیش رو اسحٰق رابن کی برسی کے موقع پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا تھا ’ہماری طاقت ہی ہماری بقا اور امن کی ضمانت ہے۔ اس کے لیے ہمیں وادیِ اردن میں حفاطتی سرحد کی ضرورت ہے جیسا کہ رابن نے اپنی آخری تقریر میں بھی کہا تھا۔‘

ادھر فلسطینی صدر محموود عباس نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ ’فلسطینی ریاست کے مشرقی سرحدیں جو بحیرۂ مردار سے ہوتی ہوئی وادی اردن اور بیت سیان کی سرحد سے منسلک وسطی پہاڑیوں تک جاتی ہیں، ہمیشہ سے فلسطین اور اردن کی سرحدیں رہی ہیں اور ہمیشہ ایسی ہی رہیں گی۔‘

عالمی مالیاتی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اگر جنوبی وادی اردن کو بحیرۂ مردار کی معدنیات سے استفادہ کرنے دیا جائے تو فلسیطنی معیشت 91 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سالانہ بڑھ سکتی ہے ۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر فلسطین کو مغربی کنارے کے ان علاقوں کے کھیتوں اور پانی کا زیادہ اختیار دیا جائے جو اسرائیلی قبضے میں ہیں تو یہاں کی معیشت میں 70 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سالانہ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

علاقائی غیر یقینی

کہا جاتا ہے کہ گذشتہ غیرحتمی امن مذاکرات میں ایک عارضی معاہدے تک بات پہنچ گئی تھی جس کے مطابق وادیِ اردن میں اسرائیلی اہل کاروں پر مبنی چند پیشگی تنبیہی چوکیاں قائم کی جانی تھیں۔

تاہم اب نتن یاہو پہلے سے کہیں زیادہ اسرائیل کی موجودگی کے حق میں ہیں، حتٰی کے فلسطینی ریاست کے اندر بھی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق انہوں نے وادی اردن میں ایک نئی حفاظتی باڑ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور انہوں نے اعلیٰ مذاکرات کار زپی لیونی کی جانب سے بین الاقوامی فوج کو بطور سرحدی محافظ تعینات کیے جانے کا مشورہ مسترد کر دیا تھا۔

یرشلم میں سینٹر آف پبلک افیئرز کے صدر ڈورے گولڈ کا کہنا ہے ’ہمارا تجربہ کہتا ہے کہ بین الاقوامی فوجیں اپنے فرائض انجام نہیں دیتیں۔

’اسرائیل فلسطین کی اقتصادی ترقی کے خلاف نہیں ہے، ہم اس بارے میں معاہدے کر سکتے ہیں، ہم اس علاقے کے معاشی امکانات میں حصہ لے سکتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’لیکن مشرقِ وسطیٰ میں وادیِ اردن کی سکیورٹی کے علاوہ اس کے کئی مضمرات ہیں۔ کون جانے شام کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے مشرق میں ایک نیا جہاد شروع ہو جائے۔ یہ اس وقت اسرائیلی فوج کے لیے سب سے بڑی پریشانی ہے۔‘

کشیدگی

وادیِ اردن کے رہائشی اسرائیلی اور فلسطینی دونوں ہی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ امن مذاکرات کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہیں۔

یہاں باقاعدگی سے ہونے والے تشدد کے واقعات اس علاقے کی وجہ سے جاری سرحدی کشمکش کو ظاہر کرتے ہیں۔

ستمبر میں اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی گاؤں خربت المخلول کو منہدم کر دیا تھا۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعمیرات غیر لائسنس شدہ ہیں اور اسرائیلی سپریم کورٹ نے انہدام کے خلاف درخواستیں بھی مسترد کر دی تھیں۔ ابو الاجاج نامی گاؤں کو بھی انہدام کا خطرہ ہے۔

اگرچہ کئی فلسطینی مزدور یہودی بستیوں میں کام کرتے ہیں، لیکن دونوں برادریوں کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں