’پاکستانی جوہری ہتھیار سعودی عرب کو فراہمی کے لیے تیار‘

Image caption خطرے کی صورت میں جوہری اسلحے سے لیس پاکستانی افواج کو سعودی عرب میں تعینات کا زیادہ امکان ہے

بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے جوہری پروگرام میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور بوقت ضرورت وہ پاکستان سے تیار جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔

نیوز نائٹ کو باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ سعودی عرب کے لیے یہ ممکن ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو سعودی عرب پاکستان سے تیار جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہو گا۔

رواں برس کے اوائل میں نیٹو کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی نیوز نائٹ کے سفارتی اور دفاعی ایڈیٹر مارک اربن کو بتایا تھا کہ انہوں نے ایسی انٹیلی جنس رپورٹیں دیکھی ہیں جن کےمطابق پاکستان نے سعودی عرب کے لیے جوہری ہتھیار تیار کر رکھے ہیں جو بوقت ضرورت سعودی عرب کے حوالے کیے جا سکتے ہیں۔

پچھلے مہینے اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ اموس یادلن نے سویڈن میں ایک کانفرنس کے دوران کہا تھا: ’اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیے تو سعودی عرب ایک مہینہ بھی انتظار نہیں کرےگا۔ وہ جوہری بموں کے لیے پہلے ہی ادائیگی کر چکے ہیں۔ وہ پاکستان جائیں گے اور جو وہ چاہتے ہیں لے کر آ جائیں گے۔‘

سعودی بادشاہ عبداللہ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ڈینس راس کو خبر کیا تھا کہ اگر ایران نے جوہری اسلحے کے حصول کے لیے حد عبور کی تو ’ہم بھی جوہری ہتھیار حاصل کریں گے۔‘

سن دو ہزار نو کے بعد متعد بار سعودی عرب نےامریکہ کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اپنی خواہش سے آگاہ کیا۔

صدر براک اوباما کے مشیر گیری سیمور نے نیوز نائٹ کو بتایا:’ میں نہیں سمجھتا کہ سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ کوئی ایسی مفاہمت ہے کہ وہ بوقت ضرورت پاکستان سے جوہری ہتھیاروں کا تقاضا کر سکیں گے۔‘

سعودی عرب کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے حصول اور دور تک مار کرنےوالے میزائلوں کو داغنے کے نظام کے حصول کی کہانی کئی عشرے پرانی ہے۔

سعودی عرب نے سنہ 1980 میں چین سے سی ایس ایس ٹو بیلسٹک میزائل خریدے تھے۔

ماہرین کا خیال تھا کہ چینی ساخت کے یہ بیلسٹک میزائل کسی بھی نشانے کو بلکل درست انداز میں مار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔

رواں سال جینز ڈیفنس ویکلی نے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب نے ریاض سے دو سو میل کے فاصلے پر سی ایس ایس ٹو میزائل کو داغنے کے لیے نیا لانچ بیس بنایا ہے۔

مغربی ماہرین الزام لگاتے رہے ہیں کہ سعودی عرب کئی برس سے پاکستان کے میزائل اور جوہری لیبارٹریوں کو فراخدلانہ مالی امداد دیتا رہا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے قریبی تعلق کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے سنہ 1999 اور پھر سنہ 2002 میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ سلطان بن عبد العزیز السعود کو جوہری لیبارٹری کا دورہ کروایا۔

پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات ہیں اور چین نے پاکستان کو میزائل اور جوہری وار ہیڈ کے ڈیزائن تک پاکستان کو بیچے ہیں۔

پاکستانی سائنسدان عبد القدیر خان پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے لیبیا اور جنوبی کوریا کو یورینیم کو افزودہ کرنے کی معلومات فراہم کی تھیں۔

عبد القدیر خان کی طرف سے جو ڈیزائن مہیا کیے گئے تھے وہ ایسے ہتھیاروں سےمتعلق تھے جو چین کے سی ایس ایس ٹو میزائل پر فٹ ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے یہ میزائل سسٹم سنہ 1980 میں چین سے خریدا تھا۔

نوے کی دہائی میں جب سعودی عرب اور پاکستان کے مابین جوہری ہتھیاروں سے متعلق معاہدے کی خبریں ظاہر ہوئیں تو سعودی عرب نے یہ کہتے ہوئے اس کی تردید کی کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر چکا ہے۔

البتہ سعودی عرب نے اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔

سعودی عرب کو تیار جوہری ہتھیار مہیا کرنے کی صورت میں پاکستان کے لیے بڑے سیاسی مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی میجر جنرل فیروز حسن خان نے ’ایٹنگ دی کراس‘ نامی کتاب میں پاکستان کےجوہری پروگرام کے حوالے لکھا ہے کہ سعودی شہزادے کا پاکستان کے جوہری لبیاٹریوں کا دورہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین جوہری ہتھیاروں کا کوئی معاہدہ موجود ہے۔ البتہ میجر جنرل فیروز حسن نے تسلیم کیا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو فراخدلانہ مدد کرتا رہا ہے جس سے پاکستان کا جوہری پروگرام آگے بڑھتا رہا ہے۔

خواہ سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ کوئی جوہری معاہدہ ہے یا نہیں، البتہ سعودی عرب سنہ 2003 کے بعد سے اپنی جوہری خواہشات کا بر ملا اظہار کرتا رہا ہے۔ سنہ 2003 میں سعودی عرب کے ایک اعلیٰ اہلکار نے سعودی عرب کے منصوبے کے بارے میں ایک دستاویز لیک کی تھی۔

اس دستاویز کے مطابق سعودی عرب ایران کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی صورت میں تین ممکنہ امکانات پر غور کر رہا ہے: 1) خود جوہری ہتھیار حاصل کرے، 2) کسی جوہری طاقت سے سعودی عرب کے دفاع کے لیے معاہدہ کرے، 3) یا مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ قائم کیا جائے۔

صدر اوباما کے مشیر گیری سیمور کا کہنا کہ عراق پر امریکی حملے کےبعد سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں کچھاؤ محسوس ہونا شروع ہوا ۔

سعودی عرب صدام حسین کو اقتدار سے نہیں ہٹانا چاہتا تھا۔ سعودی عرب کو ایران کے جوہری پروگرام سےمتعلق شدید خدشات ہیں۔ سعودی عرب اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی سے بھی نالاں تھا۔

سفارتی حلقوں میں سنہ 2003 کے بعد سے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین جوہری تعاون کے معاہدے کے بارے میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔

Image caption سعودی عرب کو ایران کے جوہری پروگرام سے شدید خطرات لاحق ہیں

وکی لیکس میں سامنے آنی والی امریکی دستاویزات کے مطابق سنہ 2007 میں ریاض میں امریکی سفارت خانے نے محسوس کیا کہ پاکستانی سفارت کاروں نےسعودی عرب اور پاکستان کےجوہری تعاون کے حوالے سے امریکی اہلکاروں کی معلومات کے بارے میں سوالات کرنے شروع کر دیے۔

سعودی عرب کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی دھمکیاں کیا واقع سنجیدہ ہیں یا وہ صرف امریکہ کو ایران پر سخت موقف اختیار کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

نیوز نائٹ کو ان دونوں سوالوں کا جواب دو پاکستانی اہلکاروں سے ملا۔ ایک پاکستان اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ دونوں ملکوں کے مابین ’شاید‘ غیر تحریری معاہدہ موجود ہے۔’ ہم کیا سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب ہمیں کیوں پیسہ دے رہا تھا۔ یہ کوئی خیرات نہیں تھی۔‘

ایک دوسرے پاکستانی اہلکار نے جس نے کچھ عرصہ تک انیٹلی جنس افسر کے طور پر کام کیا ہے، نیوز نائٹ کے ایڈیٹر کو بتایا کہ پاکستان کے پاس ایسے کچھ وار ہیڈ ہیں جو سعودی عرب کے کہنے پر ان کے حوالے کیے جا سکتے ہیں۔

سعودی عرب کی جوہری ہتھیاروں میں دلچسپی کے حوالے سے واشنگٹن انسٹیٹوٹ کے سائمن ہینڈرسن نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا کہ سعودی عرب ایران اور جوہری ہتھیاروں کے بارے میں انتہائی سنجیدہ ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے ممکنہ جوہری معاہدے کے بارے میں آگاہی رکھنے والے اہلکاروں سے بات چیت کرنے کر بعد جو دو نکات ابھر کر سامنے وہ یہ ہیں۔

کچھ اہلکاروں کا خیال ہے کہ یہ ’کیش اینڈ کیری‘ یعنی ادائیگی کرو اور اٹھا کے لے جاؤ والا معاملہ ہے۔ جبکہ کچھ اہلکاروں کا خیال ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستانی افواج کو سعودی عرب میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر کے مشیر گیری سیمور کا خیال ہے کہ ’نیٹو ماڈل‘ کو اپنائے جانے کا زیادہ امکان ہے۔ اس طرح پاکستان کہہ سکے گا کہ اس نے جوہری ہتھیار سعودی عرب کے حوالے نہیں کیے۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب جو اپنے آپ کو سنی مسلمانوں کا رہنما سمجھتا ہے وہ چاہے گا کہ جوہری ہتھیار مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہوں۔

ایران اور امریکہ کے مابین جوہری پروگرام پر ممکنہ معاہدے کی خبروں نے سعودی بادشاہت کو مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ سعودی عرب سمجھتا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے سے متعلق کوئی بھی معاہدہ بے اثر ہو گا۔

پچھلے ہفتے سعودی عرب کے انٹیلی جنس کے سربراہ نے ایران اور شام میں امریکی کردار سے ناراضی کا بر ملا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب امریکہ سے اپنے تعلقات پر از سر نو غور کرے گا۔

کچھ ایسی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان پہلے ہی شاہین بیلسٹک میزائل سعودی عرب منتقل کر چکا ہے۔ ان افواہوں کے مطابق پاکستان نے ابھی تک وار ہیڈ سعودی عرب کے حوالے نہیں کیے ہیں۔

پاکستان نے نیوز نائٹ کے رابطے پر بتایا کہ ’یہ خبر بے بنیاد، شرانگیز اور فرضی ہے۔‘ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے اور اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام انتہائی مضبوط اور ایکسپورٹ کنٹرول جامع ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام عالمی معیار اور عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے حفاظتی معیار کے مطابق ہے۔

لندن میں سعودی سفارت خانے نے بھی نیوز نائٹ کی خبر کی تردید کی ہے۔ سعودی عرب نے کہا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدہ پر دستخط کر چکا ہے۔

البتہ سعودی عرب اپنے بیان میں کہا کہ اس کے سکیورٹی کونسل کی نشت قبول نہ کرنے کی وجوہات میں مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر ناکامی بھی ایک وجہ ہے۔