یاسر عرفات طبعی موت نہیں مرے: فلسطینی حکام

Image caption یاسر عرفات کی موت کے وقت بھی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ ان کی موت قدرتی نہیں تھی

فلسطین کے حکام کا کہنا ہے کہ سابق فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی ہلاکت کے بارے میں سائنسی رپورٹوں سے ظاہر ہے کہ وہ طبعی موت نہیں مرے۔

جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں یاسر عرفات کی موت کی تحقیقاتی کمیٹی کے رکن توفیق تیراوی نے کہا ہے کہ ان کی ہلاکت کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری رہیں گی۔

سوئٹزرلینڈ کے فورنسک ماہرین نے رواں ہفتے ہی تصدیق کی ہے کہ یاسر عرفات کے جسم میں تابکار مادے پلونیم کی کافی زیادہ مقدار ملی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا ہے کہ یہ بات حتمی نہیں ہے کہ سنہ 2004 میں ان کی ہلاکت اسی مادے کی وجہ سے ہوئی۔

واضح رہے کہ یاسر عرفات کی وفات کی سرکاری رپورٹ میں درج کیا گیا ہے کہ ان کی موت طبعی تھی۔

یاسر عرفات کی بیوہ سُہا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے اس خدشے کو دہرایا تھا کہ یاسر عرفات کو قتل کیا گیا ہے اور اب یہ رپورٹ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ براہِ راست کسی کو نامزد نہیں کر سکتیں کیونکہ دنیا بھر میں ان کے کئی دشمن تھے۔

Image caption سُہا عرفات نے بھی اپنے شوہر کی ہلاکت پر خدشات ظاہر کیے تھے

سوئس رپورٹ کے مطابق یاسر عرفات کے جسم میں پلونیم ذرّات کی مقدار معمول سے 18 گنا زیادہ تھی۔ یہ رپورٹ بدھ کو الجزیرہ نے نشر کی تھی۔

الجزیرہ ٹیلی ویژن نے سنہ 2012 میں اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پیرس کے ہسپتال میں یاسر عرفات کے زیر استعمال برتنوں میں پلونیم 210 زہر کے اثرات پائے گئے ہیں اور فرانسیسی حکام نے زہر آلود برتن فلسطینی رہنما کی بیوہ کے حوالے کیے تھے۔

فرانس نے سنہ 2012 میں یاسر عرفات کی بیوہ کی درخواست پر انکوائری کا آغاز کیا تھا جس کے بعد فرانسیسی، سوئس اور روسی فورنسک ماہرین نے رام اللہ میں یاسر عرفات کی قبر کشائی کی تھی۔

یاسر عرفات کی موت کے وقت خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ ان کی موت قدرتی نہیں تھی اور کئی لوگوں نے اسرائیل پر انگلی بھی اٹھائی جس نے عرفات کو ڈھائی برس تک رام اللہ سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

اسرائیل نے یاسر عرفات کو ہلاک کرنے کے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ اسرائیل کا موقف رہا ہے کہ 75سالہ عرفات نے غیر صحت مندانہ طرز زندگی اپنا رکھا تھا۔

اسرائیل کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اس رپورٹ پر بیان میں کہا تھا کہ یہ رپورٹ سائنس نہیں بلکہ محض ایک ڈرامہ ہے۔

Image caption گزشتہ برس نومبر میں رام اللہ میں یاسر عرفات کی قبر کشائی کی گئی تھی

لوزین میں ماہرین نے یاسر عرفات کے میڈیکل ریکارڈز، ان کی لاش سے لیے گئے نمونوں اور ہسپتال میں ان کے زیر استعمال اشیا کا معائنہ کیا۔

اس رپورٹ میں ان ماہرین کا کہنا ہے کہ پلونیم کی غیر معمولی مقدار سے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ فلسطینی رہنما کو زہر دیا گیا تھا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ حتمی نتیجے پر اس لیے نہیں پہنچ سکے کہ ایک تو یاسر عرفات کی موت کو وقت بہت گزر گیا تھا، اور دوسرے نمونے محدود تعداد میں دستیاب تھے۔

یاسر عرفات کی بیوی سُہا نے منگل کے روز سوئٹزرلینڈ کے فورنسک ماہرین سے ملاقات کی تھی۔ پیرس میں خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے فلسطینی رہنما کی بیوہ نے کہا ’میں ایک سیاسی قتل کے جرم سے پردہ اٹھا رہی ہوں۔‘

ماہرین کی ایک ٹیم نےگذشتہ برس نومبر میں رام اللہ میں یاسر عرفات کی قبر کشائی کر کے نمونے حاصل کیے تھے۔

اسی بارے میں