یورپ میں یہودیوں کے خلاف جذبات میں اضافہ

Image caption یہ سروے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہنگری، سویڈن، بیلجیم اور لیٹویا میں کیا گیا

یورپ میں ایک سروے کے مطابق یہودی مخالف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یورپ کے بنیادی حقوق کی ایجنسی ایف آر اے کے ایک سروے میں شامل 5847 یہودی افراد میں سے 66 فیصد کے مطابق یہودی مخالف جذبات ایک مسئلہ ہے۔

اس کے علاوہ 76 فیصد کے مطابق گذشتہ پانچ سال کے دوران یہودی مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ سروے سال دو ہزار بارہ میں یورپی یونین کے ان آٹھ ممالک میں کیا گیا تھا جہاں یورپ میں یہودیوں کی 90 فیصد آبادی ہے۔

اس سروے میں شامل افراد سے ان کے اور ان کے خاندان کے تحفظ کے بارے میں اپنے ذاتی تجربات اور درپیش مسائل کے حوالے سے پوچھا گیا اور ان میں سے زیادہ تر کو انٹرنیٹ پر یہودی مخالف جذبات کا زیادہ سامنا ہے۔

ان میں سے ایک تہائی افراد کے مطابق انٹرنیٹ پر یہ مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

سروے میں شامل ایک پچاس سالہ برطانوی خاتون کے مطابق’ جب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک استعمال کرنا شروع کی ہے اس وقت سے انھیں یہودی مخالف جذبات کا زیادہ سامنا کرنا پڑا‘۔

اس سروے میں شامل 29 فیصدنے اپنے تحفظ کے بارے میں خدشات کی وجہ سے نقل مکانی کا سوچا تھا اور آٹھ ممالک میں سے ہنگری میں یہ شرح سب سے زیادہ 49 فیصد، اس کے بعد فرانس میں 46 فیصد اور بیلجیم میں 40 فیصد تھی۔

سروے میں شامل پانچ میں سے ایک شخص کو ایک سال کے دوران زبانی طور پر یہودی مخالف جذبات میں تضحیک کا سامنا کرنا پڑا یا ان پر جسمانی طور پر حملہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ سب سے زیادہ یہود مخالف بیانات برطانیہ میں دیکھنے میں آیا جہاں لوگوں کے مطابق اسرائیلی’نازیوں کی طرح‘ فلسطینیوں سے سلوک کرتے ہیں اور یہودی ہولوکاسٹ کی ’مظلومیت کو اپنے مقاصد کے لیے ناجائز طور پر استعمال کرتے ہیں‘۔

Image caption سروے میں شامل 29 فیصدنے اپنے تحفظ کے بارے میں خدشات کی وجہ سے نقل مکانی کا سوچا تھا

حقوق کی ایجنسی ایف آر اے کے مطابق یورپی اتحاد کے ممالک کو ہنگامی طور پر آن لائن یہود مخالف جذبات کے مسئلے پر قابو پانے کا موثر طریقہ تلاش کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ عوامی شخصیات سے کہا گیا ہے کہ وہ یہود مخالف جذبات کی مذمت کریں۔

یورپ میں یہودی کانگریس کے صدر موش کنتور نے سروے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ’ یہ حقیقت کہ ایک چوتہائی یہودی خوف کی وجہ سے خود کو یہودی نہیں کہہ سکتے ہیں اور یہ یورپی ممالک اور یورپی اتحاد کے لیے ایک تاریخ ساز لمحہ ہے‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ یورپ میں یہودیوں کی حقیقت قابلِ تشویش ہے اور حکام کو یہودی مخالف جذبات اور عدم برداشت کے مسئلے پر قابو پانا ہو گا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

اسی بارے میں