فلپائن میں آفت: ’تاریخ کا بدترین طوفان‘ جزیرے سے ٹکرا گیا

Image caption سمندری طوفان کے باعث درخت گرنے سے سڑکیں بند ہو چکی ہیں

رواں سال کا سب سے طاقتور سمندری طوفان ہیان فلپائن سے ٹکرا گیا ہے جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔

یہ اس سال فلپائن میں آنے والا پچیسواں طوفان ہے۔

ماہرینِ موسمیات کے مطابق اگر سیٹلائیٹ کی مدد سے لی جانے والی تصاویر کی بنیاد پر لگائے جانے والے اندازے صحیح نکلے تو یہ زمینی علاقے سے ٹکرانے والا تاریخ کا سب سے طاقتور سمندری طوفان ثابت ہو سکتا ہے۔

طوفان کی وجہ سے ملک کے 20 صوبوں میں لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق اب تک تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس طوفان سے ایک کروڑ بیس لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں اور ہلاک شدگان میں سے دو کرنٹ لگنے اور ایک آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہوا۔

اطلاعات کے مطابق طوفان کی وجہ سے سمار، لیت اور بوہول کے صوبوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

Image caption فوج کا کہنا ہے کہ وہ دور دراز علاقوں میں لوگوں کے لیے خوراک اور امداد پہنچا رہی ہے

طوفان کے راستے میں واقع شہروں اور دیہاتوں میں سکول اور دفاتر بند کیے جا چکے ہیں۔ طوفان کی گزر گاہ میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو گذشتہ ماہ آنے والے زلزلے کی تباہی سے سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فلپائن کے محکمۂ موسمیات کے مطابق درجہ پانچ شدت کا یہ طوفان اس وقت ملک کے مشرقی صوبے سمار میں گوئیوان کے جنوب مشرق میں موجود ہے۔

فلپائن کے جنوبی صوبے لیٹی کے گورنر راجر مرکاڈو نے جمعے کی صبح ٹوئٹر پر بتایا کہ سمندری طوفان کے باعث درخت گرنے سے سڑکیں بند ہو چکی ہیں اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

حکام کے مطابق ہیان نامی سمندری طوفان دارالحکومت منیلا کو براہِ راست متاثر نہیں کرے گا۔

فلپائن کے جنوبی صوبے لیٹی میں موجود ایک استاد نے مقامی ریڈیو سٹیشن کو بتایا ’ہم محسوس کر سکتے ہیں کہ باہر بہت تیز ہوائیں چل رہی ہیں اور ہمارا سکول پناہ گزینوں سے بھر چکا ہے۔‘

Image caption یہ زمینی علاقے سے ٹکرانے والا تاریخ کا سب سے طاقتور سمندری طوفان ثابت ہو سکتا ہے

فلپائن کے ماہرِ موسمیات رومیو نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہیان نامی سمندری طوفان مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے آیا۔

سمندری طوفان ہیان کو فلپائن میں یولانڈا کا نام دیا گیا ہے اور یہ اس برس بحرالکاہل میں آنے والا سب سے طاقت ور طوفان ہے۔

اس طوفان کی گزر گاہ میں بوہول نامی جزیرے سمیت وہ علاقے بھی ہیں جہاں گذشتہ ماہ زلزلے کی تباہی ہوئی تھی۔

بوہول میں پانچ ہزار افراد زلزلے میں گھروں کے منہدم ہونے کے بعد اب خیموں میں رہ رہے ہیں۔ اس زلزلے میں دو سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

فوج کا کہنا ہے کہ وہ دور دراز علاقوں میں لوگوں کے لیے خوراک اور امداد پہنچا رہی ہے اور ہیلی کاپٹر تیار کھڑے ہیں تاہم بحری جہازوں کے ذریعے امداد روک دی گئی ہے اور ماہی گیروں کی کشتیاں بھی ساحل پر واپس بلا لی گئی ہیں۔

اسی بارے میں