ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بے نتیجہ مگر ’تعمیری‘ رہے

Image caption ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ ان مذاکرات سے مایوس نہیں ہوئے اور ان میں تمام فریق معاملے کو حل کرنا چاہتے تھے

جنیوا میں ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر اتفاقِ رائے کے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ لورین فابیئس کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کی وجہ سے مستقبل میں پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات تعمیری رہے تاہم ابھی بھی مختلف آرا موجود ہیں اور مذاکرات ایک بار پھر دس روز بعد شروع کیے جائیں گے۔

تین روزہ مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کو لاحق خدشات کو ختم کرنا تھا۔ ان مذاکرات میں ایران کے ساتھ امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس، چین اور جرمنی شریک ہیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ مذاکرات میں معاہدہ طے کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حالیہ مذاکرات کے نتیجے سے مایوس نہیں ہیں اور ان میں تمام فریق معاملے کو حل کرنا چاہتے تھے۔

اس سے پہلے مذاکرات کا تیسرا روز مکمل ہونے پر سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ معاملے کے حل کے لیے مذاکرات کے ایک اور راؤنڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

زیرِ غور تجاویز میں ایران کے اپنے جوہری پروگرام کو نہ بڑھانے کے بدلے میں اس پر عائد چند پابندیاں ہٹائی جا سکتی ہیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانس ایران کے لیے قدرے سخت شرائط کا خواہاں ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ دنیا کی طاقتوں کو (ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے) معاہدہ کرنے کا یہ ’بہترین موقع گنوانا نہیں چاہیے۔‘

اس کے علاوہ سنیچر کو برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا بھی کہنا تھا کہ مذاکرات کاروں کو یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ ولیم ہیگ نے جنیوا میں اب تک حاصل کی جانے والی ’بہتری‘ کو سراہا مگر کہا کہ ابھی تک کسی سمجھوتے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ مذاکرات میں آنے والی بہتری کی رفتار تیز ہوئی ہے اور چند ماہ پہلے کی نسبت ماحول بہت بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اب توجہ کا ایک حقیقی ارتکاز ہے اور ہمیں ہر وہ چیز کرنی چاہیے جس سے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ایک معاہدے پر پہنچا جا سکے۔‘

ادھر فرانسیسی وزیرِ خارجہ لورین فابیئس نے فرانس انٹر ریڈیو کو بتایا تھا کہ ان کا ملک کسی ’بیوقوفوں کے معاہدے‘ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانس ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں چند نقات پر اصرار کر رہا ہے۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے مطابق مذاکرات میں ایک تنازع یہ تھا کہ کیا ایران اپنے اراک تحقیقی ریئکٹر کو بند کر دے گا جو کہ پلٹونیئم کو ہتھیاروں میں استعمال کے قابل بنا سکتا ہے۔

مغربی ممالک کو شک ہے کہ ایران کا یورینیئم کی افزودگی کا مقصد جوہری ہتھیار بنانا ہے جبکہ ایران اس کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی تابناک کا کہنا تھا کہ فرانسیسی وزیرِ خارجہ ان مذاکرات میں معاہدہ طے کرنے میں رکاوٹ ہیں۔ تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ نے بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے مدیر جیرمی بوئن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کو یہ نہیں بتاؤں گا کہ مسائل کون پیدا کر رہا ہے۔‘

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت میں ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے عزم کو دہرایا۔

بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت سے واضح ہے کہ ایران اپنے پسند کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اس پر سے پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

اسی بارے میں