ایران اور ’پی سکس پلس ون‘ جوہری مذاکرات بے نتیجہ

Image caption کیتھرین ایشٹن اور جواد ظریف کی پریس کانفرنس مختصر تھی اور کچھ عجیب سی محسوس ہوئی

تین دن کے مسلسل مذاکرات کے بعد جمعے کو امریکی وزیر خارجہ کی اچانک ڈرامائی انداز میں آمد اور پھر اس کے بعد دوسرے وزرائے خارجہ کا آنا اور پھر اس کے بعد جنیوا کے انٹرکانیٹنل ہوٹل میں شروع ہونے والے سفارتی چکر مگر ان سب کے باوجود کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔

کیا یہ ایک اچھا آغاز ہے یا ایک باعزت ناکامی؟

پریس کانفرنس میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ بیرنس کیتھرین ایشٹن اور ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف مذاکرات کے نتیجے میں شدید تھکے ہوئے نظر آئے۔

جواد ظریف نے اپنی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ بات چیت مثبت تھی۔

جواد ظریف نے بڑی مہارت سے فرانسیسی وزیر خارجہ کی جانب سے مذاکرات کے بارے میں دیے جانے والے بیان پر تبصرے کو مختلف رنگ دے دیا اور یہ کہ کر بات مختصر کی کہ جب اختلافات ہوں تو ایسا ہونا عام بات ہے۔<span >

مگر پریس کانفرنس مختصر تھی اور کچھ عجیب سی محسوس ہوئی جس سے احساس ہو رہا تھا کہ دونوں رہنما نہ چاہتے ہوئے اس میں چلے آئے تھے۔

جواد ظریف نے کہا کہ انہیں اس بات سے مایوسی نہیں ہوئی کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں بہت پیش رفت ہوئی اور اس کی بنیاد پر اگلے مرحلے میں مزید پیش رفت ہو سکے جو اگلے مہینے ہوں گے۔

Image caption فرانسیسی وزیر خارجہ فیبیوس لوروں نے جواد ظریف اور کیتھرین ایشٹن کی پریس کانفرنس سے پہلے ہی ہوٹل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرنا شروع کر دی

اگرچہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جمعے کو آتے ہی کہ دیا تھا کہ ابھی تک معاہدے تک بات نہیں پہنچی جس سے انہوں نے شاید توقعات کے گھوڑے کو لگام ڈالنے کی کوشش کی مگر کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ فرانس کی وجہ سے بات چیت میں غیر متوقع رکاوٹ آئے گی۔

تمام دن ایسی اطلاعات گردش کرتی رہیں جن میں دنیا کی چھ اہم طاقتوں کے درمیان اختلافات کی بات تھی۔

مغربی سفارت کاروں نے ہوٹل کی لابی میں جمع صحافیوں کو بتایا وہ فرانس کی جانب سے آخری لمحات میں اعتراضات گھسیڑنے پر شدید غصے میں ہیں۔

فرانس کا ایران کے جوہری مذاکرات کے حوالے سے موقف ہمیشہ ہی سخت رہا ہے شاید اس پر کسی نے اب تک توجہ نہیں دی تھی کیونکہ لوگوں کو امریکی موقف میں بہت دلچسپی ہوتی ہے۔

فرانسیسی سفارت کاروں نے مجھے بتایا کہ حالیہ سالوں ان کا ماننا ہے کہ اوباما انتظامیہ ایران کو بہت جلد بہت زیادہ رعایتیں دینا چاہتے ہیں۔

اتوار کی علی الصبح ایک بجے کے قریب جب مذاکرات ختم ہوئے تو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف مے خانے گئے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ فیبیوس لوروں نے جواد ظریف اور کیتھرین ایشٹن کی پریس کانفرنس سے پہلے ہی ہوٹل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرنا شروع کر دی۔

Image caption جنیوا میں جان کیری اور جواد ظریف ایک لمبے عرصے بعد تقریباً دس گھنٹے سے زیادہ وقت ایک ہی کمرے میں مذاکرات میں شریک رہے

فیبیوس لوروں نے اعلان کیا کہ وزرائے خارجہ ایک معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں اور کہا کہ مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

’پی فائو پلس ون‘ یا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی جو اس گروپ کا حصہ ہیں نے ہمیشہ متحد ہو کر ایران کے بارے میں بات کی مگر یہ ان کے لیے کوئی بہترین موقع نہیں تھا۔

مذاکرات اب بیس نومبر کو ہوں گے جن میں پولیٹیکل ڈائریکٹر کے سطح پر بات ہو گی جو شاید اس بات کی علامت ہے کہ کس قدر کام ہونا ابھی تک باقی ہے۔

اپنی پریس کانفرنس کے دوران جان کیری نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے میں جلد بازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ بہت مناسب ہے کہ سب مندوبین اپنے اپنے دارالحکومتوں میں جائیں اور اگلے مرحلے کے لیے صلاح مشورے کریں۔

امریکہ کے چند حلیف ممالک ہیں جنہیں اسے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے بارے میں تسلی دینے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں اسے کوئی جلدی نہیں کیونکہ جلد بازی سے نہ صرف اسرائیل بلکہ سعودی عرب بھی بہت زیادہ خوش نہیں ہوں گے۔

Image caption جان کیری اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے کا شیڈول تبدیل کر کے جنیوا پہنچے تھے

جان کیری نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجود تیس سال کی بد اعتمادی کا خاتمہ کوئی آسان کام نہیں ہے (اگرچہ فرانس کی بد اعتمادی پر غالب آنا شاید زیادہ مشکل نظر آتا ہے)۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ اس ایرانی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا صرف دوسرا مرحلہ ہی ہے۔

جان کیری اور جواد ظریف ستمبر سے پہلے صرف ایک بار ہی ملے تھے جو کہ بہت مختصر ملاقات تھی۔

دوسری جانب جنیوا میں انہوں نے دو دنوں کے دوران تقریباً دس گھنٹے سے زیادہ وقت ایک ہی کمرے میں گزارا ہے۔

اگرچہ ان مذاکرات کے ماضی میں کئی دور ہو چکے ہیں مگر تمام معاونین کا اتفاق ہے کہ اس بار سب بہت مختلف تھا۔

اگرچہ اختلافات موجود ہیں مگر گزشت چند دنوں میں مختلف معاملات پر جس قدر پیش رفت ہوئی اتنی گزشتہ دس سالوں میں نہیں ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں