فرقہ وارانہ کشیدگی سے دنیا کو سب سے زیادہ خطرہ: ایران

Image caption ہ سنی عرب رہنما فرقہ واریت پر مبنی تشدد کو ہوا دے رہے ہیں: جواد ظریف

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شیعہ اور سنّی مسلمانوں میں فرقہ وارانہ جھگڑ ے سے عالمی تحفظ کو غالباً سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سنّی ممالک پر الزام لگایا کہ یہ ’خوف پھیلانے‘ کی ذمہ دار ہیں۔

پاکستان، شام اور عراق میں حالیہ دنوں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے بقول ’بعض لوگ اپنی تنگ نظری کی وجہ سے نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔‘

’سنّی اور شیعہ کے درمیان تنازع نہ صرف خطے بلکہ مجموعی طور پر پوری عالمی تحفظ کے لیے خطرہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلم دنیا میں فرقہ وارانہ تقسیم ہم سب کے لیے خطرہ ہے۔‘

بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے مدیر جیرمی بوئن کے مطابق شیعہ سنّی تنازع تقریباً ایک ہزار سال پرانا ہے لیکن سال 2003 میں امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد سے اس میں شدت آئی ہے۔ عراق میں رواں سال اب تک فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں 6500 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ شام میں تنازع فرقہ وارانہ بنیادوں پر شروع نہیں ہوا تھا لیکن اب یہ فرقہ وارانہ رخ اختیار کر گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق فرقہ واریت کی مخالفت میں تمام فریقین کو اپنے اختلافات بھول جانے چاہییں۔

’میرے خیال میں ہم سب کو۔۔۔ شام میں اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے فرقہ واریت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ سنی عرب رہنما فرقہ واریت پر مبنی تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔

تاہم نامہ نگاروں کے مطابق سعودی عرب سمیت دیگر عرب ریاستیں ایران پر فرقہ واریت کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتی ہیں۔

اسی بارے میں