مصر خواتین کے لیے سب سے خطرناک ملک

مصر خواتین
Image caption خواتین کے حقوق کے حوالے سے 22 عرب ممالک کی فہرست میں مصر سب سے نیچے ہے

عرب ممالک میں کیے جانے والے ایک مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین کے حقوق کے معاملے میں مصر سب سے خراب جگہ ہے۔

خواتین کے حقوق پر تحقیق کرنے والے ماہرین کی رائے میں خواتین کے حقوق کے اعتبار سے عرب ممالک میں مصر کی صورتِ حال سب سے خراب ہے۔ اس تحقیق کے مطابق جنسی تشدد، خواتین کے ختنے کے واقعات میں اضافہ اور قدامت پسند اسلامی گروپوں کا بڑھتا ہوا رجحان اس کا ذمہ دار ہے۔

اس تحقیق میں عرب لیگ کے 21 ممالک بشمول شام سے 330 ماہرین نے شرکت کی۔ 2011 کے عرب انقلاب کے بعد خواتین کے حقوق پر یہ تیسری تحقیق ہے۔

ٹامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کی جانب سے کیے گئے اس مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ مصر کے بعد دوسرے نمبر پرعراق، تیسرے پر سعودی عرب اور پھر شام اور یمن شامل ہیں۔ دوسری جانب کوموروس میں خواتین کے حقوق کے اعتبار سے صورتِ حال سب سے اچھی رہی جہاں 20 فیصد خواتین وزارت کے عہدے پر فائز ہیں۔ کوموروس کے بعد عمان ، کویت، اردن اور قطر اس تحقیق میں سر فہرست رہے۔

اس تحقیق میں محققین سے پوچھا گیا تھا کہ وہ اپنے ملک میں خواتین کے حقوق کا جائزہ اس اعتبار سے لیں کہ ان ممالک میں ان کے خلاف ہونے والے تشدد، ان کو درپیش زچگی کے مسائل، خاندانوں میں خواتین کے ساتھ رویہ اور سیاست اور معیشت میں خواتین کا کردار شامل ہو۔

مصر میں تفریقی قوانین اور انسانی سمگلنگ کے واقعات میں اضافے وہاں خواتین کی ابتر صورتِ حال کے ذمہ دار ہیں۔

وہاں 2011 میں ہونے والی حکومت مخالف تحریکوں کے بعد جو تشدد پھیلا تھا اس کی وجہ سے یہ صورتِ حال پیدا ہوئی ہے۔

اسلام پسندوں کے بڑھتے اثرات اور صدارتی انتخابات میں اخوان المسلمین کے محمد مرسی کا عروج خواتین کے حقوق کے لیے بڑا جھٹکا تھا۔

مطالعے میں عرب لیگ کے 21 ممالک اور شام کے جنسی معاملات کے 336 ماہرین کو شامل کیا گیا یہ مطالعہ اس سال اگست اور ستمبر میں کیا گیا تھا۔

شام بھی عرب لیگ کا بانی رکن ہے لیکن اسے دو سال پہلے لیگ سے نکال دیا گیا تھا۔

سروے میں حصہ لینے والے ماہرین سے جو سوال پوچھے گئےتھے وہ اقوام متحدہ کے خواتین کے خلاف کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کرنے والے معاہدے (سي اے ڈبلیو ڈی ) کی شرائط پر مبنی تھے۔ اس معاہدے پر 19 عرب ممالک نے یا تو دستخط کیے ہیں یا اس کی تصدیق کی ہے۔

مصر کی انقلابی تحریک میں خواتین نے مرکزی کردار ادا کیا تھا لیکن سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسلام پسندوں کے بڑھتے اثرات اور صدارتی انتخابات میں اخوان المسلمون کے محمد مرسي کا انتخاب خواتین کے حقوق کے لیے بڑا جھٹکا تھا۔

اپریل میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مصر کی 99.3 فیصد خواتین اور لڑکیوں کو جنسی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سال جون میں مرسي مخالف مظاہروں میں شدت کے دوران قاہرہ کے تحریر چوک پر 91 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی یا ان کا استحصال کیا گیا۔

اس سروے میں حصہ لینے والوں نے زبردستی شادی کرانے اور لڑکیوں کی خرید و فروخت کے بڑھتے واقعات کی جانب بھی توجہ دلائی۔

اسی بارے میں