فلپائن طوفان: اقوامِ متحدہ کی امداد کے لیے اپیل

Image caption فلپائن کے متاثرہ علاقوں تک امدادی پہنچانے کی کوشش جاری ہے

اقوامِ متحدہ نے فلپائن میں طوفان سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی کارروائیوں کے لیے 30 کروڑ دس لاکھ ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔

جمعے کو وسطی فلپائن کے علاقوں سے ٹکرانے والے سمندر طوفان ہیان کے باعث خدشہ ہے کہ دس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس طوفان سے ایک کروڑ دس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ چھ لاکھ 73 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

کئی مالک کے بحری جہاز امدادی کارروائیوں کے لیے علاقے میں موجود ہیں لیکن موسم امداد کی تقسیم میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں میں انسانی فلاح اور ہنگامی امداد کے ادارے کی سربراہ ویلری ایموس نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ علاقوں کے لوگ انتہائی پریشان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’انہیں خوراک، پانی اور گھر کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو تحفظ دیا جانا چاہییے۔‘

اس سے قبل فلپائن میں تباہ کن طوفان ہیان میں زندہ بچنے والوں کے لیے امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئیں ہیں۔ یہ فلپائن میں آنے والا اس سال کا شدید ترین طوفان تھا۔

طوفان سے وسیع پیمانے پر مچنے والی تباہی کے پیش نظر اقوام متحدہ کی تعاون کی اپیل کے بعد امریکی اور برطانوی جنگی بیڑے فلپائن کا رخ کر رہے ہیں۔

امریکہ نے فلپائن کے لیے طیارہ بردار بحریہ کے جہاز کو اس کام کے لیے تعینات کیا ہے جبکہ برطانیہ بھی ایک بحری جہاز روانہ کر رہا ہے۔

فلپائن کے صدر نے طوفان سے ہونے والے تباہی کے بعد امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے ملک میں قومی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ طوفان میں سب سے زیادہ متاثرہ ریاستیں لیتے اور سمار میں زبردست جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔

دریں اثنا بڑے پیمانے پر عالمی امداد وہاں پہنچائے جانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن حکام کو متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

Image caption اقوام متحدہ کے مطابق فلپائن میں اس طوفان سے ایک کروڑ کے لگ بھگ افراد متاثر ہوئے ہیں

اقوامِ متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق طوفان سے تقریباً 98 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے چھ لاکھ 60 ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے صدر بان کی مون نے طوفان سے ہونے والی تباہی کی تصاویر کو ’دلدوز‘ قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے امداد اور تعاون کا وسیع پیمانے پر پروگرام بنایا ہے اور انتہائی اہم امدادی کوششوں کے لیے ڈھائی کروڑ ڈالر کا فنڈ مختص کیا ہے۔

انھوں نے کہ ہے کہ ’اس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ قریب ایک کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔۔۔ ہمیں ایسے موقعے سے فلپائن کے عوام کے ساتھ اتحاد دکھانے کی ضرورت ہے۔‘

ہیان کو فلپائن کے حکام نے ’یولانڈا‘ کا نام دیا ہے۔ اس خطرناک طوفان نے جمعے کو فلپائن کو اپنا نشانہ بنایا تھا اور پھر اس نے مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے راستے میں چھ ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

شہروں میں ٹیکلوبان سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ وہاں پر بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈنیسن کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد تک امداد پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

امدادی ادارے ریڈ کراس کے سربراہ نے طوفان سے ہونے والے تباہی کے بعد کے مناظر کو مکمل افراتفری کا عالم قرار دیا ہے۔

Image caption طوفان میں زندہ بچنے والے لوگوں کے درمیان بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی خبریں آ رہی ہیں

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق فضائیہ کے کپتان اینٹونیو ٹمایو نے کہا کہ ’ٹیکلوبان میں حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ ہمیں مزید ادویات کی ضرورت ہے۔ ہم تشنج کا ٹیکہ تک نہیں دے سکتے کیونکہ یہ ہمارے پاس نہیں ہے۔‘

دریں اثنا حکام کا کہنا ہے کہ تباہی کے ان حالات میں لوٹ مار کے واقعات وسیع پیمانے پر ہو رہے ہیں اور امن و امان کی بحالی مشکل نظر آ رہی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عام آدمی پانی اور خوراک کے لیے بھیک مانگنے لگے ہیں اور زندگی بچانے کے لیے کوڑے سے کھانا اٹھا کر کھانے پر مجبور ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ٹیکلوبان مین لوٹ مار کرنے والوں کی روک تھام کے لیے بکتر بند گاڑیاں تعینات کی ہیں۔

امریکہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران فلپائن پہنچ جائے گا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا ہے رائل نیوی کا جنگی جہاز ایچ ایم اسی ڈارلنگ جلد ہی سنگاپور سے تباہی والے علاقے میں پہنچ جائے گا۔ جہاز کے پہنچنے میں ہر چند کہ پانچ دن لگیں گے لیکن وہاں پہنچتے ہی یہ بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنا شروع کر دے گا۔

اسی بارے میں