پولیو کے خلاف 21 ممالک کی مشترکہ قرارداد

Image caption پاکستان دنیا کے ان چند گنے چنے خطوں میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کا مرض پایا جاتا ہے

اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور اس سے متصل 21 ممالک نے مشترکہ طور پر پولیو کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے پاکستان کو اس مسئلے کا اہم حصہ تسلیم کیا ہے۔

ان ممالک نے اپنی مشترکہ قرارداد میں پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو فوری طور پر پولیو کی ویکسین دیں تاکہ اسے بین الاقوامی سطح پر پھیلنے سے بچایا جا سکے۔

واضح رہے کہ یہ ممالک عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مشرقی بحیرۂ روم کے علاقوں کے شعبے کے ارکان ہیں۔

پاکستان نے بھی اس قرارداد کو منظور کیا ہے۔ جینوا میں قائم اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت کے رکن ممالک میں افغانستان، بحرین، جبوتی، مصر، ایران، عراق، اردن، کویت، لبنان، شام، المغرب، اومان، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، تیونس، متحدہ عرب امارات اور یمن شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پولیو کے خاتمے کی مہم میں پاکستان کا معاملہ بہت مشکل رہا ہے کیونکہ یہاں یہاں اقوام متحدہ کے ذریعے چلائی جانے والی مہم کے دوران پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والوں اور اپنے بچوں کو پولیو خوراک پلانے والوں کو کہیں تشدد کا سامنا رہا تو کہیں عدم اعتماد کا۔

اس سے قبل اس ہفتے ڈبلیو ایچ او کے حکام نے تصدیق کی تھی کہ شام کے شمالی صوبے میں 22 میں سے 13 بچے پولیو کی وجہ سے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہےکہ پولیو کے اس سلسلے کی بنیاد پاکستان میں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ساتھ افغانستان اور نائجیریا میں یہ مرض موجود ہے اور وہاں سے یہ مشرق وسطی کے ممالک میں پھیل رہا ہے۔

ابتدائی تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ پولیو وائرس پاکستان سے آیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے ’یہ پولیو وائرس پاکستان سے آیا ہے اور اس پولیو وائرس کی مصر، اسرائیل اور مغربی کنارے میں پولیو وائرس سے مماثلت ہے۔‘

اس قبل اقوام متحدہ نے اعلان کیا تھا کہ شام میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد وہ مشرق وسطیٰ میں پولیو مہم کا آغاز کر رہی ہے۔ اس مہم میں سات ممالک میں دو کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

Image caption مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک میں پولیو کے خلاف مہم کا اعلان کیا گیا ہے

ایک تہائی ممالک میں یہ جاری ہے جبکہ باقی ممالک میں اسے دسمبر میں شروع کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی ترجمان کاکہنا ہے کہ دو کروڑ بچوں کو قطرے پلانے کے لیے چھ ماہ لگیں گے۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیو وائرس کی ایک ایسی قسم ملی تھی جو اس سے پہلے پاکستان کے شہر سکھر سے دریافت ہونے والے وائرس سے مماثلت رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2011 میں پاکستان میں پولیو کے 198 مصدقہ کیس پائے گئے تھے اور پولیو کے خلاف زبردست مہم کے بعد یہ تعداد کم ہو کر 58 رہ گئی لیکن یہ پروگرام وہاں پوری طرح سے کامیاب نہیں ہو سکا اور وہاں اس کے خلاف لوگوں میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے ذریعے مسلمان بچوں کو بانجھ بنایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں