فلپائن: بین الاقوامی امدادی کارروائیوں میں تیزی

Image caption یو ایس ایس جارج واشنگٹن گمشدہ افراد کی تلاش اور دیگر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے گا

امریکہ کا ایک طیارہ بردار بحری جہاز فلپائن میں طوفان ہیان کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن گمشدہ افراد کی تلاش اور دیگر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے گا۔ اس طوفان سے ایک کروڑ دس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اگرچہ فلپائن میں سرکاری سطح پر تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 2300 کے قریب ہے، تاہم مقامی حکام اور امدادی کارکنان کا خدشہ ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

دنیا بھر میں فلپائن کے اندوہ ناک مناظر دکھائے جا رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر امدادی مہم شروع کی گئی ہے۔

توقع ہے کہ یو ایس ایس واشنگٹن جمعرات کی شام تک فلپائن پہنچ جائے گا۔ امریکی بحریہ کے مطابق امریکہ کے دو جنگی بحری جہاز پہلے ہی فلپائن میں موجود ہیں اور امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں۔

Image caption فلپائن میں سرکاری سطح پر تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 2300 کے قریب ہے

بدھ کے روز امریکہ مکمل ہسپتال سے لیس بحری جہاز یو ایس این ایس کو بھی حرکت میں لے آیا تاہم فوری روانگی کی صورت میں بھی یہ جہاز دسمبر تک فلپائن نہیں پہنچ پائے گا۔

جاپان میں تعینات امریکی بحریہ کی تھرڈ میرین ایکس پیڈشنری بریگیڈ کے کمانڈر جنرل پال کینیڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی امدادی کارروائیاں اس حد تک کی جائیں گی جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے بتایا کہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی آمد سے کارروائیوں میں میسر ہیلی کاپٹروں کی تعداد تین گنا بڑھ جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو ڈھونڈنے اور بچانے کے علاوہ ان ہیلی کاپٹروں کی مدد سے روزانہ لاکھوں گیلن پانی دور دراز علاقوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی فلپائن کے لیے امداد کے اعلان کیے ہیں۔

برطانیہ نے طبی ماہرین کی ایک ٹیم، شاہی بحریہ کا ایک جنگی جہاز اور فضائیہ کا ایک مال بردار طیارہ بھیجا ہے۔

جاپانی وزیرِ دفاع اتسنوری او نو دیرا نے بتایا جاپان بھی ایک ہزار فوجی اہلکار، امدادی کشتیاں اور ہوائی جہاز بھیجنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی فلاح اور ہنگامی امور کے ادارے کی منیلا میں اہلکار اورلا فاگان نے کہا کہ امدادی کارروائیاں قدرے آہستہ شروع ہوئی تھیں تاہم ان میں اب تیزی آ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’لوگ بھوکے ہیں، بے حال ہیں، نفسیاتی طور پر بری طرح متاثر ہیں اور ہم انہیں سامان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

طوفان ہیان زمین پر آنے والے ریکارڈ شدہ طوفانوں میں تاریخ کا شدید ترین طوفان ہے۔

اس سے پہلے فلپائن کے ایک کانگریس مین نے خبردار کیا تھا کہ طوفان زدہ علاقوں میں لوگ خوراک، پانی اور طبی ساز و سامان کے لیے بے صبر ہوتے جا رہے ہیں۔

متاثرہ صوبے لیتے سے تعلق رکھنے والے مارٹن روموالدیز نے کہا کہ ان علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے زیادہ پھرتی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

Image caption طوفان ہیان زمین پر آنے والے ریکارڈ شدہ طوفانوں میں تاریخ کا شدید ترین طوفان ہے

نیشنل فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ پولیس اور سپاہی لوٹ مار کرنے والوں کو روکنے میں ناکام رہے، جنھوں نے لیتے کے ایک شہر الانگالنگ کے ایک سرکاری گودام سے چاول کی ایک لاکھ بوریاں لوٹ لیں۔

لیتے جزیرے میں واقع دو لاکھ 20 ہزار کی آبادی پر مشتمل شہر ٹیکلوبان سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ بی بی سی کے نامہ نگار جونتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ شہر سے ایئر پورٹ تک کا راستہ متاثرہ افراد سے بھرا پڑا ہے جو امداد کی کمی اور سکیورٹی حالات خراب ہونے پر برہم ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طوفان میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں نہیں اٹھائی گئیں، مقامی حکومت ختم ہو چکی ہے اور مرکزی حکومت جس نے سب کچھ سنبھالنا تھا، نظر نہیں آ رہی۔

فلپائن کے صدر نے طوفان سے ہونے والی تباہی کے بعد امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔

دریں اثنا بڑے پیمانے پر عالمی امداد وہاں پہنچائے جانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن حکام کو متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے طوفان سے ہونے والی تباہی کی تصاویر کو ’دلدوز‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہ ہے کہ ’اس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ قریب ایک کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔۔۔ ہمیں اس موقعے پر فلپائن کے عوام کے ساتھ یکجہتی دکھانے کی ضرورت ہے۔‘

امدادی ادارے ریڈ کراس کے سربراہ نے طوفان سے ہونے والی تباہی کے بعد کے مناظر کو مکمل افراتفری کا عالم قرار دیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عام آدمی پانی اور خوراک کے لیے بھیک مانگنے لگے ہیں اور زندگی بچانے کے لیے کوڑے سے کھانا اٹھا کر کھانے پر مجبور ہیں۔

اسی بارے میں