’نئے آمر‘، شام میں القاعدہ کا نیا روپ

Image caption الرقۃ شہر میں تقریباً دس لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے اور یہ شہر اب مکمل طور پر آئی ایس آئی ایس کے قبضے میں ہے

شمالی شام میں القاعدہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور عسکری طاقت کی وجہ مقامی سیاسی کارکنان علاقہ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

الرقۃ شہر میں ’الدولۃ الاسلاميۃ في العراق والشام‘ (آئی ایس آئی ایس) نامی القاعدہ حامی تنظیم کی جانب سے گرجہ گھروں پر حملوں کے بعد سے شہریوں کی ایک تنظیم اس جہادی گروہ کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔

تاہم ترکی بھاگ جانے والے چند کارکنان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف آواز اٹھانے کے بدلے میں آئی ایس آئی ایس لوگوں کو گرفتار اور اغوا کر رہی ہے اور ان پر تشدد کر رہی ہے۔

الرقۃ شہر میں تقریباً دس لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے اور یہ شہر اب مکمل طور پر آئی ایس آئی ایس کے قبضے میں ہے۔

فوٹوگرافر میزار ماتر کہتی ہیں کہ انہوں نے متعدد ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہیں آئی ایس آئی ایس کیمپوں سے رہائی ملی تو ان کی کمروں پر کوڑوں کے نشان تھے۔

ان کے بھائی محمد نور الرقۃ میں آئی ایس آئی ایس اور فری سریئن آرمی کے درمیان لڑائی کی عکس بندی کے بعد اغوا کر لیے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کو جہادیوں نے اغوا کیا ہے۔

ایک اور کارکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کی بہن اور انہیں آئی ایس آئی ایس نے گولیاں مارنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد انہیں شہر چھوڑنا پڑا۔

Image caption یہ لڑائی ستمبر میں اس وقت شروع ہوئیں جب جہادیوں نے الرقۃ میں ایک گرجہ گھر پر کالے رنگ کا جھنڈا لہرایا

ان کا کہنا تھا کہ ’دھماکہ خیز مواد سے لیس بیلٹیں پہنے سات یا آٹھ مردوں نے میری بہن کو گھیر لیا تھا۔ کچھ کہہ رہے تھے کہ اسے چھرا مار دو، کچھ نے کہا اسے گولی مار دو۔ انہوں نے میری بہن کے ہاتھ میں جو بورڈ تھا پھاڑ دیا اس پر لکھا تھا کہ ’عیسائی اور مسلمان ایک ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ تم ایک مشرک ہو۔‘

یہ لڑائی ستمبر میں اس وقت شروع ہوئی جب جہادیوں نے الرقۃ میں ایک گرجہ گھر پر کالے رنگ کا جھنڈا لہرایا اوراسے اپنا صدر دفتر بنا لیا۔

ایک سیاسی کارکن کا کہنا ہے کہ دو گاڑیوں میں بھر کر جنگجو گرجہ گھر کی چھت پر گئے۔ انہوں نے عمارت کی گھنٹی توڑ دی اور ایک صلیب کو سڑک پر پھینک دیا۔

کارکنان نے مظاہرین کو اس صلیب کو اٹھائے گلیوں میں جلوس نکالتے ہوئے عکس بند کیا۔ اس فلم میں سنا جا سکتا ہے کہ مظاہرین مسلمانوں اور عیسائیوں میں یکجہتی کے لیے نعرے لگا رہے ہیں۔

اس سال کے آغاز میں الرقۃ وہ پہلا شہر تھا جو کہ مکمل طور پر باغی فورسز کے قبضے میں آیا۔ تاہم شامی حکومت سے منحرف قوتوں کے اثر میں آنے کے دو ماہ بعد کی القاعدہ سے منسلک آئی ایس آئی ایس نے اس پر قبضہ کر لیا۔

الرقۃ کی آبادی میں خانہ جنگی سے بے گھر ہوئے افراد کی بڑی تعداد مقیم ہے اور شاید دنیا کا یہ سب سے بڑا شہر ہے جو کہ القاعدہ کے قبضے میں ہے۔

اسی بارے میں