برطانیہ: قیمتی فن پاروں اور نودارات کی چوری میں اضافہ

Image caption اعداد وشمار کے مطابق ان چوری شدہ اشیاء کی سالانہ قیمت تیس کروڑ پاؤنڈ سے بھی زیادہ ہے

برطانوی پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ منّظم جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے قیمتی فن پاروں اور نودارات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ان چوری شدہ اشیاء کی سالانہ قیمت تیس کروڑ پاؤنڈ سے بھی زیادہ ہے یہ رقم منشیات کے کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

ٹاور آف لندن کی چابیاں چوری

’نوادرات کی بازیابی کے لیے متحد ہو جائیں‘

سراغ رسانوں کا کہنا ہے کہ یہ گروہ ڈاکے کے دوران اپنی مطلوبہ چیز حاصل کرنے کے لیے کسی بھی انتہائی تشدد کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

پولیس اور برطانوی ورثے کا ادارہ پیر کو ایک نئے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

برطانوی پولیس کے اعلی افسران کی تنظیم (اے سی پی او) کا کہنا ہے کہ عجائب گھروں، لائبریریوں، سرکاری گوداموں میں موجود اور نجی طور پر اکھٹے کیے گئے فن پاروں کو منظّم جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہیڈفرڈ شائر پولیس کے افسر اینڈی بلس کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک قابلِ ذکر تشویش ہے۔‘

Image caption گذشتہ برس مئی میں لوٹن کی سٹاک وڈ ڈسکوری سنٹر سے انتہائی سکیورٹی میں رکھا گیا ایک نایاب قدیم جگ چوری ہوا

انہوں نے مزید کہا ’ایسا ایک فن پارہ بھی لاکھوں پاؤنڈ مالیت کا ہے اور اس قسم کی چیزیں دنیا بھر کے جرائم پیشہ افراد کو متاثر کرتی ہیں۔‘

ان چوری شدہ فن پاروں کی مالیت تیس کروڑ پاؤنڈ سالانہ سے بھی زیادہ بنائی جاتی ہے۔ یہ رقم منشیات کے کاروبار کے بعد دوسری بڑی رقم ہے اور پولیس رپورٹ کے مطابق یہ چوری کی جانے والی گاڑیوں کی مالیت سے بھی زیادہ ہے۔

فن پاروں کی چوری کے انداراج سے متعلق ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ انیس سو اکانوے کے بعد سے ساٹھ ہزار فن پارے، نوادرات اور قیمتی اشیاء کے چوری ہونے یا ڈاکے کی رپورٹ کی گئی۔

گذشتہ برس مئی لوٹن کی سٹاک وڈ ڈسکوری سنٹر سے انتہائی سکیورٹی میں رکھا گیا ایک نایاب قدیم جگ چوری ہوا۔ اس وقت یہ دنیا میں موجود اپنی نوعیت کے محض تین نودارات میں سے ایک تھا جس کی مالیت ساڑھے سات لاکھ پاؤنڈ تھی۔

لوٹن کلچر میں فن اور عجائب گھروں کے ڈائریکٹر کیرن پیرکنز کہتے ہیں ’اس چوری کے بعد ہر کوئی صدمے میں تھا، لوگ غصے میں تھے، یہ کسی ذاتی حملے کی طرح تھا ہم اسے واپس لانے کے لیے پر عزم تھے۔‘

یہ قدیم جگ پولیس نے بازیاب کروا لیا تھا تاہم اسے پہنچنے والے نقصان کے باعث اسے اب تک دوبارہ نمائش کے لیے نہیں رکھا گیا۔

چوری کی اشیا کا کاروبار کرنے والے ایک شخص کو دو برس قید کی سزا بھی ہوئی۔

کیرن پیرکنز کہتے ہیں کہ ’ کئی عجائب گھروں کو ان کی چوری ہونے والے چیزیں واپس نہیں ملیں ہم اس لحاظ سے خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔‘

ملک بھر میں تاریخی ورثے کے خلاف جرائم کی تحقیقات کرنے والے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ ایڈرین گرین نے بی بی سی ریڈیو فائیو کو بتایا کہ چوری ہونے والے اشیا کو ملک سے باہر لے جا کر فروخت کیا جارہا ہے۔

’یہ ایک بین الاقوامی سطح کا منظّم جرم ہے جس سے انہیں کروڑوں پاؤنڈز کی کمائی ہو رہی ہے۔‘

پیر کو ان جرائم سے متعلق نئی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا جسے اے سی پی او نے ترتیب دیا ہے۔ اس تنظیم میں برطانوی ورثے کے ادارے کے اہلکار، انسدادِ جرائم کے ادارے کے اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے حکام کے نمائندے شامل ہیں۔

اسی بارے میں