شام: باغیوں کے رہنما عبدالقدیر الصالح ہلاک

Image caption عبدالقدیر صالح جمعرات کو ہونے والے فضائی حملے میں زخمی ہوئے تھے۔

شام کے باغیوں کے ایک اعلیٰ کمانڈر حکومت کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد اتوار کی رات ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکومتی فورسز نے جمعرات کو حلب میں باغیوں کے زیرِ قبضہ ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔

باغیوں کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ توحید بریگیڈ کے رہنما عبدالقدیر الصالح اتوار کی رات گئے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔

حزبِ مخالف کے کارکنوں کے مطابق حملے کے بعدگذشتہ ہفتے ان کی حالت قدرے مستحکم تھی تاہم گذشتہ رات وہ انتقال کر گئے۔

اس سے قبل اتوار کو شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک سرکاری عمارت میں ہونے والے بم دھماکے میں 31 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار جرنیل بھی شامل ہیں۔

یہ دھماکہ اتوار کو دمشق کے شمال مشرقی علاقے حرستا میں ہوا، تاہم سرکاری ذرائع یا سرکاری میڈیا میں ابھی تک اس واقعے کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد عمارت کے تہہ خانے میں رکھا گیا تھا جس کا مطلب ہے کہ باغی جنگجو عمارت کی سکیورٹی کا حصار عبور کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

شامی انسانی حقوق کی آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت رات کے وقت کام کرنے والے اہلکار تعینات تھے اگر بم دھماکہ تھوڑی دیر پہلے ہوتا تو دو سو کے قریب افراد ہلاک ہو سکتے تھے۔‘

دمشق میں حالیہ دنوں میں تشدد کے واقعات میں بہت اضافہ ہوا ہے جس میں حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے۔

جمعرات کو تین افراد دمشق شہر کے قدیم حصے میں مارٹر گولوں کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے۔

اس سے قبل گزشتہ پیر کو ایک سکول بس کا ڈرائیور اور چار بچے ایک مارٹر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے جب مارٹر گولہ ان کی گاڑی پر گرا۔

دمشق کے علاوہ لبنان کی سرحد کے قریب واقع علاقوں میں بھی شدید لڑائی جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کے مطابق اس لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں 2011 میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ 22 لاکھ شامیوں نے اس دوران ہمسایہ ممالک میں پناہ لی ہے جبکہ ساڑھے 42 لاکھ شامی ملک کے اندر ہی نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں