جاپان کے ’برہنہ پا سفارتکار‘ سوڈان میں

Image caption یسوہیرو موراتاسو سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے قریب ہر ہفتے سوڈانی پہلوانوں کے ساتھ کشتی کرتے ہیں

افریقی ملک سوڈان میں جاپانی سفارتخانے میں یسوہیرو موراتاسو پولیٹکل افسر ہیں اور ان کو ’برہنہ پا سفارتکار‘ کہا جاتا ہے۔

لیکن وہ پولیٹکل افسر ہونے کے ساتھ ساتھ جسمانی سفارت کاری بھی کرتے ہیں اور سوڈان کے بہترین پہلوانوں کے ساتھ کشتی کرتے ہیں۔

موراتاسوکو امید ہے کہ ان کی کشتی کے باعث سوڈان کی عوام متحد ہو جائے گی۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ اگر سوڈان کے مختلف حصوں، مختلف قبائل سے لوگ اکٹھے ہو کر ایک غیر ملکی کے خلاف اپنے پہلوانوں کی حوصلہ افزائی کریں تو مجھے بہت خوش ہو گی۔‘

وہ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے قریب ہر ہفتے سوڈانی پہلوانوں کے ساتھ کشتی کرتے ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے غیر ملکی ہیں جو ایسا کرتے ہیں۔ وہ پہلے غیر ملکی ہوں یا نہیں لیکن پہلے پہلوان سفارت کار ضرور ہیں۔

موراتاسو کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوڈان آنے سے پہلے اس ملک کی کشتی کے بارے میں پڑھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوڈان میں کشتی کی روایت بہت قدیم ہے اور میں دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا جاپانی کشتی کی جدید تکنیک سوڈان کی روایتی تکنیک کے خلاف کارآمد ہے یا نہیں۔

کشتی کے لیے وہ سفارتخانے کے عملے کے ساتھ مشق کرتے ہیں جو مارشل آرٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

جاپان کے سومو پہلوانوں کی طرح وہ بھاری بھر کم نہیں بلکہ خاصے دبلے پتلے ہیں۔

ابھی تک موراتاسو کو ہر کشتی میں شکست ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے: ’میرے ساتھی میرا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ریسلنگ کیوں کرتے ہو؟ تم ایک 33 سالہ سفارتکار ہو اور تمہاری کوئی خاتون دوست نہیں ہے۔ تم کو ٹینس کھیلنا چاہیے تاکہ تمہاری سماجی زندگی بہتر ہو سکے۔‘

Image caption ابھی تک موراتاسو کو ہر کشتی میں شکست ہوئی ہے

حال ہی میں حج یوسف قصبے کے سٹیڈیم میں ان کی کشتی تھی اور ان کے پوسٹر پر لکھا تھا: ’موراتاسو کی واپسی‘ اور وہ کافی پرامید تھے کہ وہ یہ کشتی جیت جائیں گے۔

لیکن ایک بار اپنے مخالف پر حملہ کرنے کے بعد جب دوبارہ حملہ کیا تو ان کے مخالف نے ان کو چِت کردیا۔

ایک بھاری بھرکم شخص نے موراتاسو کوکندھے پر اٹھایا اور وہ رِنگ سے باہر آ گئے۔

’میں اس شکست سے خوش نہیں ہوں۔ مجھے مزید تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔‘

سوڈان کے جنوبی صوبے کردفان کو سوڈانی ریسلنگ کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ صوبے کے وزیر نے بھی موراتاسو کی ریسلنگ دیکھی: ’موراتاسو جلد بازی کرتے ہیں اور محض جسمانی طاقت پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کو کھیل کے قواعد و ضوابط کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ میرے خیال میں ان کی کارکردگی بہتر ہو گی۔ اور ویسے ان کو یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔‘

موراتاسو کی سوڈان میں مدتِ ملازمت ختم ہو رہی ہے اور ان کو صرف ایک اور کشتی کا موقع ملے گا۔ شاید اس دفعہ وہ جیت جائیں اور کم از کم ایک جیت کی خوشی تو سوڈان سے لے کر جائیں۔

Image caption موراتاسو کی سوڈان میں مدت ختم ہو رہی ہے اور ان کو صرف ایک اور کشتی کا موقع ملے گا