قطر میں تعمیراتی کارکنوں سے جانوروں جیسا سلوک:ایمنٹسی انٹرنیشنل

Image caption کچھ غیر ملکی کارکنوں کو معاوضہ نہیں دیا جا رہا تھا لیکن انھیں کام پر آنے کے لیے جرمانوں اور ملک بدری کی دھمکیاں دی گئیں: ایمنٹسی رپورٹ

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے قطر کے شعبۂ تعمیرات میں کارکنوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر زیادتیاں ہو رہی ہیں۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطر میں فٹبال کے عالمی کپ سنہ 2022 کے لیے متعدد سٹیڈیموں کی تعمیر پر کام شروع ہونے والا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل (اے آئی) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کو اکثر معاوضہ نہیں دیا جاتا، ان سے خطرناک حالات میں کام کروایا جاتا ہے اور انھیں انتہائی گندی اور خراب رہائش دی جاتی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک مینیجر کارکنوں کا ذکر ’جانور‘ کہہ کر کرتا ہے۔

قطری حکام نے کہا ہے کہ عالمی کپ کے لیے تعمیراتی کام میں حصہ لینے والوں کے لیے حالات سازگار ہوں گے تاہم انھوں نے ابھی تک اس تازہ رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ایمنسٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی رپورٹ کے لیے قطر میں 210 کارکنوں، آجروں اور سرکاری اہلکاروں کے انٹرویو کیے۔ رپورٹ کو ’قطر میں ہجرت کا تاریک پہلو: عالمی کپ سے قبل قطر کے شعبۂ تعمیرات پر ایک نظر‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اے آئی کا کہنا ہے کہ بعض زیادتیاں ’زبردستی کام کروانے‘ کے زمرے میں آتی ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ کچھ غیر ملکی کارکنوں کو معاوضہ نہیں دیا جا رہا تھا لیکن انھیں کام پر آنے کے لیے جرمانوں اور ملک بدری کی دھمکیاں دی گئیں۔

اے آئی نے دوحہ کے مرکزی ہسپتال کے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سنہ 2012 میں ایک ہزار افراد کو ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں داخل کروایا گیا جو کام کے دوران بلندی سے گرے تھے۔

اے آئی نے کہا کہ اس کے نتیجے میں بعض افراد معذور ہو گئے جب کہ ان واقعات میں اموات کی شرح ’غیر معمولی‘ تھی۔

اے آئی کے سیکرٹری جنرل سلیل شیٹی نے کہا کہ ’یہ ناقابلِ عذر ہے کہ دنیا کے ایک امیر ترین ملک میں اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکنوں کا ظالمانہ استحصال ہو رہا ہو جنھیں معاوضہ تک نہیں دیا جاتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہماری تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ کارکنوں کا خطرناک حد تک استحصال ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ فیفا کی ذمے داری ہے کہ وہ عالمی کپ کے حوالے سے شعبۂ تعمیرات میں زیادتیوں کو برداشت نہ کرنے کا عوامی پیغام دے۔‘

اس سے پہلے برطانوی اخبار گارڈین نے ستمبر میں اپنی ایک رپورٹ میں قطر میں کارکنوں کے حالات کو ’جدید دور کی غلامی‘ قرار دیا تھا۔

اخبار کی اس رپورٹ پر پیشہ ور فٹبال کھیلنے والوں کی تنظیم فیف پرو نے سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’قطر ان کارکنوں کے حقوق کی پاسداری کرے جو عالمی کپ سنہ 2022 منعقد کروانے مدد کر رہی ہیں۔‘

فیف پرو کے بورڈ ممبر برینڈان شواپ نے کہا کہ ’یہ ناقابلِ معافی ہے کہ کارکنوں کی زندگیوں کو قربان کیا جائے جبکہ تعمیرات کی صنعت میں حفاظت اور حفظانِ صحت کی جدید سہولتیں موجود ہیں۔‘

اسی بارے میں