شیر نے تماشائیوں کے سامنے شیرنی کو مار ڈالا

ایتھوپیا کے چڑیا گھر میں ایک شیر (فائل فوٹو)
Image caption نر شیر بعض اوقات شیروں کو مار دیتے ہیں لیکن شیرنیوں کے مارنے کے واقعات بہت شاذ و نادر ہیں

امریکی ریاست ٹیکسس کے ایک چڑیا گھر میں ایک شیر نے تماشائیوں کی موجودگي میں ایک شیرنی پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا۔

چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ شیر نے پانچ سالہ شیرنی ’جوہری‘ کو اتوار کے روز ڈیلس زو میں گردن سے دبوچ لیا۔

طبی معائنے سے یہ پتہ چلا ہے کہ جوہری کی موت گردن کے زخم اور خون بہنے کے سبب واقع ہوئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ شیرنی اسی چڑیا گھر میں پیدا ہوئی تھی اور برسوں سے دونوں ساتھ رہتے آ رہے تھے۔ انہیں اس کا ذرا بھی اندازہ نہیں ہے کہ آخر شیر جوہری کے خلاف کیوں ہو گيا۔

بہر حال حکام کا کہنا ہے کہ وہ شیر کو ہلاک کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے۔

ایک تماشائی کے ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ بظاہر پرسکون شیر نے شیرنی کی گردن کو اپنے جبڑوں سے دبوچ لیا۔

ایک عینی شاہد جم ہاروی نے مقامی میڈیا ڈبلیو ایف اے اے کو بتایا کہ ’سبھی کو ایسا معلوم ہوا کہ وہ دونوں کھیل رہے ہیں پھر یہ نظر آیا کہ شیرنی جان بچانے کی جدوجہد میں ہے۔‘

سکیورٹی نے فوری طور پر عوام کے لیے چڑیا گھر بند کر دیا اور شیر کو وہاں سے ہٹا لیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ وہاں موجود دوسرے چار شیر اس واقعے سے بے پروا نظر آئے۔

چڑیا گھر میں جانوروں کی بھلائی کے ذمہ دار اور نائب صدر لین کریمر نے کہا کہ ’دوسرے شیروں کی طرح جوہری غیر معمولی جانور تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک نادر اور افسوس ناک واقعہ ہے۔ میں نے اپنے 35 سالہ کریئر میں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔‘

چڑیا گھر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جوہری سٹاف کی پسندیدہ تھی وہ اپنی بہنوں سے پیار کرتی تھی اور اس نے ان کی نشو و نما میں مدد دی تھی۔‘

مسٹر کریمر نے مقامی میڈیا کو بتایا جنون اور وحشت کے عالم میں نر شیر دوسرے شیروں یا بعض اوقات اپنے بچوں کو بھی مار دیتے ہیں لیکن شیرنیوں کو مارنے کے واقعات شاذونادر ہی سامنے آتے ہیں۔

بہر حال انھوں نے کہا کہ مستقبل میں اس قسم کے حملے دور از امکان ہیں۔

تاہم چڑیا گھر کے منتظمین کا کہنا ہے کہ بقیہ دو شیرنیوں کو دونوں شیر وں سے علیحدہ رکھا جائے گا اور ادارہ کسی قیمت پر اس شیر کو مارنے کے حق میں نہیں ہے۔

اسی بارے میں