چھوٹے ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار سعودی عرب

Image caption چھوٹے ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے

جرمنی میں ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار بارہ میں چھوٹے ہتھیاروں کی برآمد میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سعودی عرب ان ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار رہا۔

جرمنی نے سنہ دو ہزار بارہ میں چورانے کروڑ ساٹھ لاکھ یورو کی مالیت کے ہتھیار برآمد کیے۔

جرمنی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار بارہ میں جرمنی سے ہتھیاروں کی برآمد سنہ دو ہزار گیارہ کے مقابلے میں نسبتاً کم رہی لیکن اس برآمد کا پچاس فیصد غیر نیٹو ممالک کو بیچا گیا۔

ان اعداد و شمار میں قابل غور بات یہ ہے کہ چھوٹے ہتھیاروں کی مانگ میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سنہ دو ہزار بارہ میں حکومت نے تین کروڑ ستر لاکھ یورو سے زیادہ کے چھوٹے ہتھیار برآمد کرنے کی منظوری دی۔ ایک سال قبل برآمد کیے گئے چھوٹے ہتھیاروں کی کل مالیت ایک کروڑ ستر لاکھ یورو تھی۔

ان چھوٹے ہتھیاروں میں مشین گنیں، سب مشین گنیں اور اموینشن شامل ہیں۔

سعودی عرب کے بعد ان چھوٹے ہتھیاروں کا امریکہ بھی ایک بڑا خریدار رہا۔ جرمنی نے ہتھیاروں کے علاوہ سرحدی نگرانی کے آلات اور ہتھیاروں کا پتا لگانے کے آلات اور میزائیلوں کے کنٹرول کرنے کا سفٹ ویئر بھی شامل ہے۔

ان کے علاوہ ہتھیاروں کے خریداروں میں الجیریا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، سوائٹرزلینڈ، جنوبی کوریا، سنگاپور اور متحدہ عرب امارات ہیں۔

بائیں بازو کی جماعتوں نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کی مخالفت کی ہے۔

خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بائیں بازو کی جماعت بنڈسٹیگ کے رہنما ژان وان اکین نے سعودی عرب کو دفاعی ٹیکنالوجی کی فروخت پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جرمنی سعودی عرب کو دو سو لیپرڈ ٹو ٹینک فراہم کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ان ملکوں کی انسانی حقوق کے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو ہتھیاروں کی فروخت کی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں