امریکہ سے سکیورٹی معاہدے پر لویا جرگے میں بحث متوقع

Image caption افغان وزارتِ خارجہ نے بدھ کو معاہدے کا جو مسودہ شائع کیا اس پر لویا جرگہ میں جمعرات کو بحث ہو رہی ہے

افغانستان میں دو ہزار سے زائد عمائدین پر مشتمل لویا جرگے میں امریکہ اور افغانستان کے مابین دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کے متن پر جمعرات سے بحث شروع ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ عمائدین کے اجلاس کو افغانستان میں لویا جرگہ کہا جاتا ہے۔

اگر اس اجلاس میں اس معاہدے کو منظوری مل جاتی ہے تو امریکی افواج افغانستان میں سنہ 2014 کے بعد بھی رک سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق افغان حکومت اور امریکہ کے مابین معاہدے کے مسودے میں جو چیز سب سے زیادہ بحث کا موضوع ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ امریکی فوجیوں پر افغانستان کی کسی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

اس سے قبل امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے افغان حکام کے ساتھ باہمی سکیورٹی کے ایک معاہدے کے متن پر اتفاق کیا ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ نے بدھ کو اس معاہدے کا مسودہ شائع کیا جس کے تحت امریکی افواج کو سنہ 2014 کے بعد افغان عدالتوں سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔

اس سے پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ اگر امریکہ اور افغانستان امریکی افواج کو استثنیٰ دینے پر متفق نہ ہوئے تو وہ سنہ 2014 کے بعد افغانستان سے اپنی افواج کو مکمل طور پر نکال لے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ’ہم باہمی سکیورٹی کے حتمی معاہدے پر پہنچ گئے ہیں جسے جمعرات کو افغان لویا جرگہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔‘

تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ انھوں نے افغان وزارت خارجہ کی طرف سے شائع مسودے کا حوالہ دیا ہے۔

اس سے قبل جان کیری نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ افغانستان میں گذشتہ 12 سال کے دوران کی گئی غلطیوں پر معافی مانگے گا۔

ان کا کہنا تھا: ’میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ صدر حامد کرزئی نے کسی معافی کا مطالبہ نہیں کیا اور اس حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔‘

امریکی وزیرِ خارجہ کے مطابق اس معاہدے کے تحت سنہ 2014 کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کا کردار بہت محدود ہو گا۔

واضح رہے کہ عراق میں امریکی افواج کو استثنیٰ نہ مل پانے کی صورت میں امریکی افواج نے مکمل طور پر ملک چھوڑ دیا تھا۔

دارالحکومت کابل میں منعقد ہونے والے لویا جرگہ میں شرکت کے لیے آنے والے بعض عمائدین نے حکومت اور امریکہ کے مابین معاہدے پر یہ کہتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس میں کافی تاخیر ہوئی ہے۔

افغانستان کے پکتیا صوبے کے سینیٹر عبدالحنان نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’سکیورٹی معاہدے کے تحت جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ہمارے لیے بہت ابہام پیدا کرنے والا ہے۔‘

اس سے قبل امریکہ میں قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں گذشتہ 12 سال کے دوران کی گئی غلطیوں پر معافی نہیں مانگے گا۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے سوزن رائس نے افغان حکام کے حوالے سے آنے والی ان اطلاعات کو رد کر دیا جن میں یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ امریکی حکومت نے ایک خط تیار کیا ہے جس میں ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیا گیا ہے اور وہ جمعرات کو افغان عمائدین کو پیش کیا جائے گا۔

اس سے پہلے افغان صدر حامد کرزئی نے پیر کو امریکہ کے ساتھ باہمی سلامتی کے ایک اہم منصوبے کی ایک شق پر اعتراض کرتے ہوئے اُسے مسترد کردیا تھا۔

اُس شق کے تحت سنہ 2014 کے بعد بھی نیٹو افواج افغانیوں کے گھروں میں گھس کر تلاشی لینے کا حق رکھتی تھیں۔

اسی بارے میں