ایران کے خلاف مزید پابندیاں نہ لگائیں: اوباما

Image caption امریکی صدر اوباما ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کے حل کے لیے ایران کو موقع دینا چاہتے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے امریکی قانون سازوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف مزید پابندیوں کی تجویز نہ دیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ عالمی قوتوں کو موقع فراہم کرے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں معاہدہ مکمل کر سکیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں ہوا تو ایران یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔

’ایران پر مزید پابندیاں نقصان دہ ہو سکتی ہیں‘

ہم ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت ہی قریب تھے: جان کیری

ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں چھ عالمی طاقتیں یعنی پی پانچ+ایک ممالک کے گروپ کے سفارتکار بدھ کو جنیوا میں ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں اس دفعہ مذاکرات میں اختلافِ رائے ختم ہو سکتا ہے۔

ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائٹ یو ٹیوب پر ایک بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے کہا: ’ہم اپنے وقار اور احترام کی امید اور مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم ایرانیوں کے لیے جوہری توانائی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم کسی کلب کا حصہ بن جائیں یا دوسروں کو دھمکائیں۔ ہمارے لیے جوہری توانائی مستقبل کے بارے میں ہمارے اپنے فیصلے کی اہلیت ہے نہ کہ کوئی دوسرا ہماری جانب سے ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرے۔‘

منگل کو صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس میں امریکی سنیٹروں سے تقریباً دو گھنٹے بات کی۔ اس ملاقات میں وزیر خارجہ جان کیری اور نیشنل سکیورٹی کی مشیر سوزین رائس بھی شامل تھیں۔

دریں اثنا بعض امریکی قانون سازوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے جوہری پروگرام پر بہت تیزی سے معاہدہ طے کرنا چاہتا ہے حالانکہ اسے تہران کے ساتھ سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے: ’ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ ہم ایران کے پروگرام کو روک سکیں اور اسے ختم کروا سکیں اور اس کے ساتھ ہمیں اس بات کا بھی پتہ چل سکے گا کہ کیا اس ضمن میں کیا جامع حل کیا جا سکتا ہے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ابتدائی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو ایران اپنے یورینیئم کے ذخائر میں اضافہ کرے گا اور نئے سنٹری فیوج کی تنصیب کے ساتھ ارک شہر میں پلیوٹونیئم ری ایکٹر کو فروغ دے گا۔

Image caption وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران سے کوئی معاہدہ طے نہ ہوا تو ایران یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا

وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جے کارنی نے کہا کہ صدر اوباما نے امریکی سینٹروں سے کہا ہے کہ نئی پابندیاں اس وقت زیادہ موثر ہوں گی جب ایران معاہدے سے انکار کر دے یا معاہدے کو تسلیم کرنے کے بعد اسے پورا کرنے میں ناکام رہے۔

صدر اوباما نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ پابندیوں میں نرمی کے نتیجے میں ایران کو 40 ارب ڈالر کی رقم ملے گی۔

واضح رہے کہ سنہ 2006 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جو ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک ہیں۔

اقوام متحدہ کے علاوہ امریکہ اور یورپی یونین کی علیحدہ پابندیوں کی وجہ سے ایران میں توانائی اور بینکنگ کا شعبہ متاثر ہے اور تیل پر مبنی اس کی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔

اسی بارے میں