مصر: کار بم دھماکے میں دس فوجی ہلاک

Image caption فروری سنہ 2011 میں حسنی مبارک کی برطرفی کے بعد سے شمالی سینا کا علاقہ جہادی جماعتوں کے زیر اثر بتایا جاتا ہے

مصر میں شمالی سینا کے شہر العریش میں ہونے والے ایک کار بم حملے میں کم از کم دس مصری فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

روزنامہ المصری الیوم نے خبر دی ہے کہ جب فوجیوں کا ایک قافلہ بس کے ذریعے خروبہ کے علاقے سے گزر رہا تھا تو ایک بس سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی۔

سکیورٹی اہلکار کے مطابق اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

یہ دھماکہ بدھ کو مقامی وقت کے مطابق صبح پونے آٹھ بجے رفاہ سے العریش جانے والی شاہراہ پر ہوا، اور کہا جا رہا ہے کہ یہ صدر مرسی کی برطرفی کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا خونی حملہ ہے۔

الاہرام اخبار کی ویب سائٹ نے خبر دی ہے کہ اس میں کم از کم 26 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ حملہ مبینہ طور پر مصر کی سیکنڈ فیلڈ آرمی کونشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس فورس کو سینا کے علاقے میں تعینات کیا گیا ہے اور وہ اس تازہ فوجی آپریشن میں شامل ہیں جو غزہ کے ساتھ مصری سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ فوجی چھٹی پر قاہرہ آ رہے تھے۔ بعض شدید طور پر زخمی فوجیوں کو ہوائی جہاز سے دارالحکومت کے ہسپتال منتقل کیا گيا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کی برطرفی کے بعد صحرائے سینا کے علاقے میں فوجیوں اور سکیورٹی فورسز پر کیے جانے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ علاقہ حالیہ برسوں میں عدم استحکام کا شکار رہا ہے اور یہاں صدر حسنی مبارک کے زوال کے بعد سے گڑبڑ میں اضافہ ہوا ہے۔

فروری سنہ 2011 میں حسنی مبارک کی برطرفی کے بعد سے شمالی سینا کا علاقہ جہادی تنظیموں کے زیر اثر رہا ہے حن میں سے بعض کا تعلق غزہ کی پٹی سے بتایا جاتا ہے۔

ستمبر کے مہینے میں سکیورٹی فورسز نے اسلام پسند جنگجوؤں کے خلاف سینا کے علاقے میں مہم شروع کی تھی لیکن اس دوران انہیں متعدد مہلک بم دھماکوں کا سامنا رہا ہے۔

اسی بارے میں