مانچسٹر سے شام تک کا سفر ؟

Image caption چودہ برطانوی مسلمانوں نے پانچ ایمبولینسوں کے ساتھ شام تک سفر کیا

برطانیہ میں امدادی ادارے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شام کے بعض علاقے اتنے خطرناک ہو چکے ہیں کہ وہاں امداد پہنچانا اب ناممکن ہو چکا ہے۔ لیکن برطانوی مسلمانوں کی ایک تنظیم نے بذریعہ سڑک شام کے شمالی شہر حلب تک پہنچ کر ہسپتالوں کو ضروری طبی امداد پہنچائی۔

مانچسٹر سے حلب تک سفر کرنے والے ماجد فری مین کا کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہم اب شام کے شہریوں کے لیے صرف دعا ہی کر سکتے ہیں: ’وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں اس صورتِ حال میں تبدیلی لانی ہے اور ہم فنڈ اکٹھے کر کے ادویات ضرورت مندوں تک پہنچا سکتے ہیں۔‘

25 سالہ ماجد فری مین کا تعلق لیسٹر سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے کریڈٹ ایڈوائزر ہیں۔ ماجد فری مین پانچ ایمبولیسنوں کےایک قافلے کو لے کر 3200 میل کا سفر طے کر حلب پہنچے۔ مانچسٹر سے چلنے والا یہ قافلہ فرانس، بیلجیئم، لگسمبرگ، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، یونان اور ترکی سے ہوتا ہوا شمالی شام کے شہر حلب تک پہنچا۔

Image caption سات سالہ محمد کی ماں اور بھائی فوت ہو چکے ہیں اور وہ اب ہسپتال میں قیام پذیر ہیں

14 لوگوں کے اس قافلے نے اپنے سفر کے دوران سروس سٹیشنوں کی پارکنگ میں اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے وہیں آرام کیا۔ اس قافلے میں ایک ڈاکٹر، ایک فارماسسٹ اور ایک ہوٹل کے مالک بھی شامل تھے۔ 14 رکنی اس قافلے کے چار افراد نے انتہائی خطرناک علاقوں میں پہنچ کر حلب کے ہسپتالوں کو طبی امداد فراہم کی۔

ان لوگوں نے اپنی زندگیوں کو شدید خطرے میں کیوں ڈالا؟ ان کا کہنا ہے کہ بطور مسلمان ان کا عقیدہ ہے کہ موت کا وقت پہلے سے متعین ہے اور اس میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔

ماجد فری مین بتاتے ہیں کہ حلب کے جس ہسپتال میں انہوں نے قیام کیا وہاں بم پھٹنے کی آوازیں معمول کی بات ہے وہ بہت جلد ہی اس کے عادی ہو گئے تھے: ’ہمارے پاس خوفزدہ ہونے کا وقت ہی نہیں تھا۔ ہم بھی انسان ہیں۔ بعض اوقات اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

ہسپتالوں میں امداد فراہم کرنے کے لیے انہوں نے ایک مقامی ڈرائیور کی خدمات حاصل کیں جو نشانہ بازوں سے بچنے کےلیےگاڑی کو انتہائی تیز رفتاری سے چلاتا تھا۔

مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر شمیلا ذوالفقار اس قافلے میں شامل واحد ڈاکٹر تھیں۔ انھوں نے اپنے چار بچوں کو مانچسٹر میں چھوڑ کر شام جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ بھی ان چار افراد میں شامل تھیں جو انتہائی خطرناک علاقوں میں جانے کے لیے تیار ہوئے تھے۔ وہ کہتی ہیں: ’ہم فرنٹ لائن کے بہت قریب پہنچ گئےتھے۔ اب میں سوچتی ہوں کہ شاید ہمیں فرنٹ لائن کے اتنا قریب نہیں جانا چاہیے تھا۔‘

Image caption مانچسٹر سے روانہ ہونے والا یہ قافلہ 3200 میل کا سفر طےکر شام کے شہر حلب تک پہنچا

ڈاکٹر شمیلا ذوالفقار کہتی ہیں: ’ہم ہسپتالوں کو طبی امداد مہیا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ یہ میرا مشن تھا جس میں کامیاب رہی ہوں۔‘

ماجد فری مین کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، اس لیے انہوں وہاں کچھ عکس بندی بھی کی ہے۔ ماجد ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ایک بچے کی تصویر دکھاتے ہیں۔ یہ سات سالہ محمد ہے۔ ان کےگھر پر حکومتی افواج کے ایک حملے میں ان کی ماں اور بھائی فوت ہو چکے ہیں، اور ان کی دونوں ٹانگیں ضائع ہو گئیں، البتہ ان کے والد بچ گئے۔ محمد اب ہسپتال میں ہی ڈاکٹروں کے ساتھ رہتے ہیں۔

ماجد فری مین کہتے ہیں کہ برطانیہ سے روانہ ہوتے ہوئے جب وہ اپنی ماں کو خدا حافظ کہہ رہے تھے تو وہ بہت جذباتی تھے، لیکن جب وہ واپسی کے لیے شام سے رخصت ہونے لگے تو وہ برطانیہ سے راونگی کے وقت سے بھی زیادہ جذباتی تھے: ’میں ان لوگوں کے ساتھ رہا۔ وہ میرے بہن اور بھائیوں کے طرح تھے۔ مجھے ایسا لگا کہ میں انہیں چھوڑ کر ان سے غداری کر رہا ہوں۔ ہمیں ان کی مدد کرنی ہے۔‘