سکیورٹی معاہدے پر دستخط، امریکہ کو عجلت، کرزئی گریزاں

Image caption اس معاہدے کے متن کو لویا شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل عام کیا گیا

امریکہ نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ ہونے والے سکیورٹی معاہدے پر رواں سال کے اختتام پر دستخط ہو جانے چاہییں اور اس پر تاخیر کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔

امریکہ کی طرف سے یہ بات افغان صدر حامد کرزئی کے اس بیان سے متصادم ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اس معاہدے پر سنہ 2014 میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے دستخط نہیں ہوں گے۔

خیال رہے کہ افغان صدر حامد کرزئی نے لویا جرگہ کے دو ہزار ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سنہ 2014 کے بعد 15 ہزار کے قریب امریکی فوجیوں کو افغانستان میں رہنے سے متعلق معاہدے کی توثیق کریں۔

البتہ افغان صدر حامد کرزئی نے واضح کیا تھا کہ اس معاہدے پر سنہ 2014 میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے دستخط نہیں ہوں گے۔

جمعرات کو لویا جرگہ کے پہلے دن عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر نے ممبران سے استدعا کی کہ وہ اس نئے معاہدے کی منظوری دیں۔

انھوں نے کہا کہ روس، چین اور بھارت نے اس معاہدے کی حمایت کی ہے اور یہ معاہدہ افغانستان کو اس کی ضرورت کے مطابق سکیورٹی فراہم کرے گا۔

اس معاہدے کے متن کو لویا جرگہ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل عام کیا گیا۔ حامد کرزئی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ان کے اور امریکیوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔

انھوں نے کہا ’میں ان پر (امریکہ پر) اور وہ مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اور مجھے یہ گذشتہ دس سالوں میں دکھایا گیا ہے۔ میری ان سے کئی بار لڑائی ہوئی ہے اور انھوں نے میرے خلاف پروپگینڈا کیا ہے۔‘

کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کیرن ایلن کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی کی جانب سے یہ کہنا کہ اس معاہدے پر سنہ 2014 میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے دستخط نہیں ہوں گے، بظاہر ایک نئی شرط دکھائی دیتی ہے۔

افغانستان میں اگلے چھ مہینوں میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور صدر حامد کرزئی ان انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

حامد کرزئی کا دفتر بی بی سی کو اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا وہ یا ان کا جانشین اس معاہدے پر دستخط کرے گا۔

دوسری جانب امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا: ’ہمیں یقین ہے کہ اس معاہدے پر جلد دستخط ہونے سے افغانیوں کو ان کے مستقبل اور آئندہ انتخابات کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال ختم ہو جائے گی اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سنہ 2014 کے بعد امریکی موجودگی کی منصوبہ بندی کرنے میں آسانی رہے گی۔

دریں اثنا وائٹ ہاوس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ ’یہ اہم ہے کہ اس معاہدے پر اس سال کے آخر تک دستخط ہوجائیں اور اس کی منظوری بھی ہو جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ابھی تک سنہ 2014 کے بعد امریکی افواج کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

اسی بارے میں