چیچن جنگجو شام جا جا کر لڑ رہے ہیں

عمر ششانی
Image caption عمر ششانی (درمیان) نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کے خلاف ’جہاد‘ کریں

استنبول سے جورجیا کے شہر تبلیسی کے سفر کے دوران میری ملاقات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ایک ایسے سابق اہلکار سے ہوئی جو پنکیسی میں چیچین افراد کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

جورجیا کے شمال مشرق میں اس دور دراز علاقے کو ’بھُلا‘ دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس سابق اہلکار کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ’چیچنیا میں روس کی حمایت یافتہ رمضان قدیرو کی حکومت کو اس وادی کے چیچن افراد کی ضرورت نہیں، جورجیا کی حکومت انھیں پال نہیں سکتی اور ظاہر ہے روس کو تو ویسے ہی ان کی کوئی پروا نہیں۔‘

میں نے پنکیسی جا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہاں سے نوجوان چیچن اتنی بڑی تعداد میں شام میں باغیوں کی مدد کے لیے کیوں جا رہے ہیں۔

عمر ششانی القاعدہ کے حمایت یافتہ جہادی گروپ جیش المجاہدین والانصار کے رہنما ہیں۔ اس تنظیم میں کئی غیر ملکی جنگجو شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق شمالی کوہِ قاف سے ہے۔

Image caption پنکیسی میں تقریباً 15,000 چیچن آباد ہیں

پنکیسی کوہِ قاف کے پہاڑوں میں ایک وادی ہے۔ یہاں تقریباً 15,000 چیچن بستے ہیں جن کے آبا و اجداد اٹھارھویں صدی میں یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔

اس علاقے میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے اور جورجیا کی حکومت کے مطابق زیادہ تر خاندان پینشن پر گزارا کرتے ہیں۔

روس کی حکومت اور چیچن باغیوں کے درمیان 1990 اور 2000 کی دہائی میں ہونے والی دو جنگوں کے دوران اس وادی کی چیچن آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

جنگ سے بچ کر آنے والے افراد اور شمالی کوہِ قاف پر روس کے کنٹرول کے بعد حملے سے بچنے کے لیے جنگجوؤں نے بھی اس وادی میں پناہ لی۔

زیادہ تر جنگجو انتہائی قدامت پسند یا سلفی مسلک سے تعلق رکھتے تھے جو شمالی کوہِ قاف میں اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔

جیسے جیسے وادی میں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا، اس مسلم اکثریتی وادی میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ان کے نظریے کی حمایت کرنے لگی۔

اس سے یہاں کے نسلی چیچن باشندوں کے ساتھ ان کا تناؤ پیدا ہوگیا ہے جو روایتی طور پر صوفی ہیں۔

لیکن یہاں کے ایک گاؤں جوکولو کے سلفی امام ایوب بورکشویلی نے اس تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کی کیوں کہ یہاں کے لوگ آپس میں قبائلی اور خاندانی روابط بھی رکھتے ہیں۔

Image caption نوجوان چیچن ’طلم کا شکار‘ شامیوں کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں: ایوب بورکشویلی (بائیں)

اس امام کے مطابق سلفی صرف ’قرآن اور سنت کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔‘

ماضی میں کئی سلفی نوجوان لڑنے کے لیے شمال میں چیچنیا، یا پھر روس میں داغستان، انگوشتیا اور کبردینو بلکاریا جاتے رہے ہیں۔

یہ جنگجو اسلامی شدت پسند تنظیم کوہِ قاف امارات کے جھنڈے تلے لڑتے تھے جس کے سربراہ چیچن علیحدگی پسند لیڈر دوکو عمروف ہیں۔

لیکن مارچ 2011 میں شام میں شروع ہونے والی تحریک کے بعد چیچن باشدوں کی ایک بڑی تعداد نے کوہِ قاف امارات کی اپیلوں کو نظر انداز کر کے شام میں بشار الاسد کے خلاف سرگرم باغیوں کی، جن میں زیادہ تر سنی ہیں، مدد کے لیے شام کا سفر کیا ہے۔

جورجیا میں چیچن برادری کے ایک سینیئر رہنما عمر ایدیگوو کا کہنا ہے کہ تقریباً 200 چیچن شام میں لڑ رہے ہیں اور وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

Image caption عمر دوکوو کو شروع میں چیچین جنگجؤں کے شام جانے پر تحفظات تھے

بورکشویلی کہتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ شمالی کوہِ قاف میں داخل ہونا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگیا ہے اور کئی نوجوان چیچن یہ سمجھتے ہیں کہ شام میں ’ظلم کا شکار‘ افراد کی مدد کرنا ان پر فرض ہے۔

دوکو عمروف کو شروع میں چیچن جنگجوؤں کے شام جانے پر تحفظات تھے کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ انہیں کوہِ قاف امارات کے مشن میں ہاتھ بٹانا چاہیے۔

لیکن بعد میں انہوں نے یہ کہہ کر اس کی حمایت کی کہ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ کوہِ قاف امارات نے تنظیم میں مزید نوجوانوں کی بھرتی بند کر دی ہے۔

شام میں لڑنے والے چیچن جنگجوؤں کے ایک قریبی ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شمالی کوہِ قاف میں شام کی طرح نہ تو تربیتی کیمپ ہیں اور نہ ہی اتنے وسائل۔

’ہم اس بات پر شرم محسوس کرتے ہیں کہ ہم یہاں شام میں ہیں اور کوہِ قاف اب بھی (غیروں کے) قبضے میں ہے، لیکن نوجوان تربیت کے بعد واپس لوٹ رہے ہیں۔ میرا ایک ساتھی یہاں سے دھماکہ خیز مواد میں تربیت کے بعد سیدھا پہاڑوں میں واپس گیا ہے۔‘

ذرائع کے مطابق ’اس طرح ہمارے یہاں آنے سے (کوہِ قاف امارات) کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ان کو تربیت یافتہ جنگجو ملیں گے۔‘

اسی بارے میں