لٹویا: سپر مارکیٹ کی چھت گرنے سے 21 ہلاک

Image caption ہلاک ہونے والوں میں تین امدادی کارکن بھی شامل ہیں

لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں ایک سپر ماکیٹ کی چھت گرنے سے کم از کم اکیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ کئی ابھی تک لاپتہ ہیں۔

رات سے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں اور اب پولیس نے مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ہلاک ہونے والے تین افراد میں امدادی کارکن شامل ہیں جو عمارت میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے عمارت میں داخل ہوئے جب اس کی چھت گر گئی۔

چھت گرنے کی وجہ ابھی واضح نہیں ہے مگر اطلاعات کے مطابق چھت پر ایک باغیچہ تعمیر کیا جا رہا تھا۔

یہ سپر مارکیٹ 2011 میں کھلی تھی اور یہ ریٹیل چین ’میکسیما‘ کا حصہ ہے۔

لٹویا کے وزیرِ داخلہ نے جائے حادثہ کا معائنہ کر نے کے بعد کہا کہ انہوں نے اس واقعے کی مجرمانہ تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے جو کہ عمارت میں تعمیراتی قوائد کی خلاف ورزی کے بارے میں ہے۔

انہوں نے لیٹوین ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ واضح ہے کہ عمارت میں تعمیراتی قواعد کے معاملے میں خلاف ورزیاں ہوئی ہیں‘۔

لٹویا کی امدادی سروس کے حکام کے مطابق تین امدادی کارکن ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

Image caption عمارت کا ایک حصہ گرنے کے کچھ دیر بعد عمارت کی چھت گر گئی جب امدادی کارکن عمارت کے اندر لوگوں کو نکالنے کے لیےگئے ہوئے تھے

اس سے قبل حکام نے کہا تھا کہ اس واقعے میں پینتیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ٹی وی پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں نظر آتا ہے کہ امدادی کارکن عمارت کے ملبے کو کاٹ کر ہٹا رہے ہیں اس شیشے اور کنکریٹ کی عمارت سے اور کنکریٹ کے ٹکڑوں کو ہٹانے کے لیے کرینیں بلوائی گئی ہیں۔

فوج نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ساٹھ سے زیادہ فوجی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

جب عمارت کی چھت گری تو اس میں بڑی تعداد میں صارفین خریداری میں مصروف تھے۔

Image caption جب عمارت کی چھت گری تو اس میں بڑی تعداد میں صارفین خریداری میں مصروف تھے

عینی شاہدین نے بتایا کہ جب عمارت گری تو امدادی کارکن لوگوں کو نکالنے کے لیے اندر گئے اور اس دوران عمارت کی چھت گر گئی اس سے امدادی کارکن عمارت میں پھنس کر رہ گئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب عمات کی چھت گری تو خریداروں نے عمارت سے نکلنے کی کوشش کی مگر وہ عمارت کے الیکٹرانک دروازوں کی وجہ سے اندر ہی پھنس گئے۔

چھت گرنے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے مگر بی بی سی کے نامہ نگار ڈیمین میک گینیز نے کہا کہ اس کی ممکنہ توجیع یہ ہو سکتی ہے کہ عمارت کی چھت پر لگائے جانے والے باغیچے کے لیے جمع کی گئی مٹی کے وزن سے عمارت کی چھت زمیں بوس ہو گئی۔