لندن: 30 سال کی غلامانہ زندگی سے تین خواتین کو نجات

Image caption لندن پولیس کے اہلکار کیون ہیلیند کا کہنا ہے کہ اتنے طویل عرصے تک قید و بند کا واقعہ ان کے سامنے اب تک نہیں آیا ہے

لندن پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے جنوبی علاقے میں ایک گھر سے تین خواتین کو بازیاب کروایا گیا ہے جنھیں 30 سال تک غلاموں کی طرح رکھا گیا تھا۔

پولیس نے اس معاملے میں جمعرات کو ایک 67 سالہ مرد اور ایک خاتون کو بھی گرفتار کیا ہے۔

گذشتہ ماہ ’فریڈم چیرٹی‘ نام کی ایک تنظیم نے پولیس سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ایک خاتون نے فون کے ذریعے بتایا ہے کہ انھیں کئی دہائیوں سے ان کی مرضی کے خلاف قید رکھا گیا ہے۔

جن خواتین کو پولیس نے 25 اکتوبر کو رہائی دلوائی، ان میں ملائشیا کی ایک 69 سالہ خاتون، آئرلینڈ کی ایک 57 سالہ خاتون اور ایک 30 سالہ برطانوی خاتون شامل ہیں۔

چیریٹی کا کہنا ہے کہ ذہنی طور پر بے حد پریشان ان خواتین کو محفوظ مقامات پر رکھا گیا ہے۔

چیریٹی کی بانی انیتا پریم نے بی بی سی سے کہا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ آخر کار کس طرح یہ تین خواتین اتنے دنوں تک چھپی رہیں۔

انھوں نے کہا: ’ہم ایک ایسے مصروف شہر میں رہتے ہیں جہاں ہم عام طور پر اپنے پڑوسی کو بھی نہیں جانتے۔ ہم سینٹرل لندن میں ایسے لوگوں کی تلاش میں ہیں جنہیں ان کی مرضی کے خلاف عام رہائشی مکانوں میں قید رکھا گیا ہے۔‘

30 سالہ خاتون نے اپنی اب تک کی پوری زندگی قید میں گزاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا وہ اسی گھر میں تو پیدا نہیں ہوئی تھیں۔

پولیس ان خواتین کے درمیان کسی قسم کے ممکنہ تعلق کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس اہلکار کیون ہیلینڈ نے کہا: ’ہمارے سامنے بعض معاملات ایسے آئے ہیں جن میں چند لوگوں کو دس دس سال تک یرغمال بنا کر رکھا گیا لیکن اس طرح کا واقعہ کبھی نہیں دیکھا۔‘

انہوں نے بتایا: ’اس معاملے میں گرفتاری میں تاخیر ہوئی ہے۔ اس کا سبب یہ تھا ہمیں بہت ہی احتیاط کے ساتھ کام کرنا پڑا کیونکہ ان خواتین کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئي تھیں اور ہمیں اس معاملے سے منسلک سربستہ راز کو بھی سمجھنا تھا۔‘

ہیلینڈ کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی طرح ان خواتین کی تکالیف میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے بارے میں حقائق رفتہ رفتہ سامنے آئے کیونکہ کئی ماہرین ان خواتین کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق ان کے ساتھ ابھی تک کسی قسم کے جنسی استحصال کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔

ہیلینڈ نے اس معاملے میں فریڈم چیرٹی کے کردار کی تعریف کی۔ اس ادارے کو آئرش خاتون نے فون کیا تھا اور بتایا کہ ان کے ساتھ مزید دو خواتین کو رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں