مصر: ترکی کے سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم

Image caption مصر نے یہ فیصلہ ترکی کی جانب سے مغذول صدر مرسی کی رہائی کے مطالبے کے بعد کیا گیا۔

مصر نے ترکی کے سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کے ساتھ سفارتی تعلقات سفیر کی سطح سے کم کر کے سفارتی ناظم الامور کی سطح پر لائے جائیں گے۔

مصری اقدام کے جواب میں ترکی نے بھی مصر کے ساتھ تعلقات کی سطح کم کرنے کے اعلان کیا ہے۔

مصر نے یہ اقدام ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردوغان کی جانب سے جمعے کو ملک کے معزول صدر محمد مرسی کے رہائی کے مطالبے کے بعد اٹھایا ہے۔

سنیچر کو مصری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ طیب اردوغان کے بیانات ’اشتعال انگیز اور مصر کے اندروانی معاملات میں مداخلت ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس بنا پر ترکی کے ساتھ تعلقات کو سفیر کی سطح سے کم کرکے سفارتی ناظم الامور کی سطح پر لایا جائے گا۔

ترجمان بدر عبدل عطی نے کہا کہ ’ترکی مصری مفادات کے خلاف عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کوشش کر رہا ہے اور اس نے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والی تنظیموں کے اجلاسوں کی حمایت کی۔‘

مصر کے فیصلے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے ترکی نے بھی مصر کے ساتھ تعلقات کو ناظم الامور کی سطح پر لانے کا اعلان کیا۔

ترکی کے وزارتِ خارجہ نے ترکی کے لیے مصری سفیر کو ’ناپسندیدہ‘ شخصیت بھی قرار دیا۔

ترکی سابق مصری صدر محمد مرسی کو فوج کی طرف سے جولائی میں برطرف کرنے پر شدید تنقید کرتا رہا ہے۔

جمعے کو ترکی کے وزیرِ اعظم نے سکیورٹی فورسز کی جانب سےاگست میں مرسی کے حامی دھرنوں کو پرتشدد انداز میں منتشر کرنے کی ایک بار پھر مذمت کی۔

طیب اردوگان کا تعلق بھی محمد مرسی کی طرح اسلامی سیاسی جماعت سے ہے اور استبول اور انقرہ بین الاقوامی اخوان المسلمین کے اجلاسوں کی میزبانی کر چکے ہیں۔

قاہرہ میں مصری مظاہرین نے ترکی کے سفارتِ خانے کے باہر احتجاج بھی کیا تھا۔

اس وقت کشیدگی کے باعث مصر اور ترکی نے ایک دوسرے کے ممالک سے اپنے سفیروں کو واپس بلایا تھا۔ ستمبر میں ترکی کے سفیر قاہرہ واپس گئے لیکن مصری سفیر دوبارہ انقرہ نہیں گئے۔

محمد مرسی اس وقت جیل میں ہیں اور انھوں نے اس عدالت کو غیر قانونی قرار دیا ہے جس میں ان پر لوگوں کو قتل اور تشدد پر اکسانے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

محمد مرسی کو برطرف کرنے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں اخوان المسلمین کے ارکین کو حراست میں لیا گیا جسے عبوری انتظامیہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف کوشش کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

مصر میں رواں سال جولائی میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد ملک بھر میں ان کے حق اور مخالفت میں پرتشدد مظاہروں کا آغاز ہو گیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور صورت حال تاحال کشیدہ ہے۔

اسی بارے میں