ہمارا معاہدہ طے پا گیا ہے: جواد ظریف

Image caption ایرانی وزیرِ خارجہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کی

ایران اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

تاحال اس معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں جو کہ سوئس شہر جنیوا میں پانچ روزہ بات چیت کے نتیجے میں طے پایا ہے۔

ایران کے خلاف مزید پابندیاں نہ لگائیں: اوباما

معاہدے کی تصدیق ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ کے ذریعے کی جب انہوں نے لکھا ’ہمارے درمیان معاہدہ ہو گیا ہے۔‘

اس کے علاوہ فرانسیسی وزیرِ خارجہ لورینٹ فیبیئس نے بھی سمجھوتہ طے پانے کی تصدیق کی ہے۔

مذاکرات کی قیادت کرنے والی یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کے ترجمان نے بھی ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،’ای 3 +3 اور ایران کے درمیان معاہدہ ہو چکا ہے۔‘

سنیچر کی شام ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ مسودے پر 98 فیصد پر اتفاق رائے ہو چکا ہے لیکن تہران کسی بھی معاہدے میں اپنے افزودگی کے حق کا ذکر چاہتا ہے۔

جنیوا میں موجود ایران کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ یہ ایک دہائی میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پانے والا سب سے اہم سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔

Image caption امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے علاوہ برطانیہ، چین، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ بھی مذاکرات میں شامل تھے

اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ عالمی طاقتیں اگلے چھ ماہ کا عبوری معاہدہ تیار کرنا چاہتی ہیں تاکہ تمام فریق کو جامع معاہدے پر مذاکرات کو وقت مل جائے گا۔ تاہم ایران کا اصرار تھا کہ عبوری معاہدے سے قبل اسے جامع معاہدے کے اہم نکات سے آگاہ کیا جائے۔

عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران پابندیوں کے خاتمے کے بدلے یورینیم کی افزودگی ترک کرنے پر رضامند ہو جائے تاہم ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کہہ چکے ہیں کہ یورینیئم کی افزودگی ایران کا حق ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اس معاملے پر چار روز سے نچلی سطح پر بات چیت جاری تھی اور ایرانی اور روسی وزرائے خارجہ پہلے ہی جنیوا میں موجود تھے۔

سنیچر کو مذاکرات کے اہم دور میں شرکت کے لیے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے علاوہ برطانیہ، چین، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ بھی سوئٹزرلینڈ پہنچے تھے۔

امریکہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر عبوری معاہدہ ہوگیا تو ایران کے جوہری پروگرام پر اقوامِ عالم اور واشنگٹن کی جانب سے عائد بہت سی پابندیاں بدستور قائم رہیں گی اور اگر ایران جوہری پروگرام پر کوئی پیش رفت نہیں کرتا اور اپنے ایٹمی پروگرام کے ’زیادہ بھرپور معائنے‘ پر اتفاق کرتا ہے تو اس پر عائد عالمی پابندیوں میں کچھ کمی ہو سکتی ہے۔

جنیوا میں ایرانی جوہری پروگرام پر بات چیت رواں ماہ کے اوائل میں ہونے والی ایسی ہی بات چیت کا دوسرا دور تھا۔ پہلے دور میں بھی چھ عالمی طاقتوں کے وزرائے خارجہ بات چیت کے لیے جنیوا پہنچے تھے تاہم معاہدے پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا تھا۔

اسی بارے میں