یمن میں آج کے دور کے لیلیٰ مجنوں

Image caption ویب سائٹ پر جوڑے کے نام پر کئی صفحات بن چکے ہیں

لڑکی ایک لڑکے کو پسند کرتی ہے لیکن لڑکی کا والد اس لڑکے کو پسند نہیں کرتا۔ یہ اتنی ہی پرانی کہانی ہے جتنا کہ کہانیوں کی روایت۔ لیکن یمن میں ایک جوڑے کی گرفتاری پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

تین سال پہلے سعودی عرب کے ایک گاؤں میں ہدا نامی خاتون موبائل کی ایک دکان پر گئی جہاں اس کی ملاقات عرفات سے ہوئی۔

عرفات کا تعلق یمن کے ایک متوسط خاندان سے تھا اور وہ سعودی عرب میں روزگار کے لیے آئے تھے۔

دونوں کے درمیان ملاقات کے بعد عرفات نے ہدا کے والدین سے رابطہ کیا اور ہدا کا رشتہ مانگا لیکن انھیں انکار کر دیا گیا۔

جوڑے کے وکیل کے مطابق ہدا کا کہنا ہے کہ ’میرا خاندان میری شادی کسی اور شخص سے کرانا چاہتا تھا۔‘

ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر ایک کلپ میں بظاہر ہدا نے ایک صحافی سے بات کرتے ہوئے بتایا ’لیکن میں نے انکار کر دیا، میں نے کہا کہ مجھے عرفات کے علاوہ کوئی اور ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، اور اس وقت مجھے بھاگ جانے کا خیال آیا۔‘

ہدا نے گھر چھوڑ دیا اور سرحد عبور کر کے یمن چلی گئیں جہاں انھیں غیر قانونی طور پر ملک میں رہنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ہدا کے خاندان کا کہنا تھا کہ عرفات نے ان کی بیٹی پر جادو کر دیا جبکہ عرفات کو یمن واپسی پر ہدا کی مدد کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

لیلیٰ مجنوں کی محبت کی داستان اور ہدا، عرفات کی محبت کی کہانی میں کیا فرق ہوا؟

اس بار یمن میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر جوڑے کی گرفتاری کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

ویب سائٹ پر جوڑے کے نام پر کئی صفحات بن چکے ہیں اور ان کی تصاویر کا تبادلہ کیا جا رہا ہے جبکہ ایک صفحے کو 9000 افراد نے پسند کیا ہے۔ ان صفحات پر کچھ بیانات قوم پرست ہیں جس میں امیر ہمسایہ ملک کے رویے پر تنقید کی جا رہی ہے جبکہ دیگر نے ملک میں حقوق کے لیے اٹھنے والی تحریک کو بڑھاوا دینے کوشش کی ہے۔

33 سالہ ایک سرکاری ملازم فہد کے مطابق ’ہدا سے ہمدردی اس لیے کی جا رہی ہے کہ اس نے روایات کے خلاف بغاوت کی ہے، وہ ایک ایسے پدری سماج کے خلاف کھڑی ہوئی ہے جس میں شادی کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں آزادی، حقوق حاصل ہو اور مثال کے طور پر جہاں لوگ اپنی مرضی سے شادی کر سکیں۔‘

فہد اتوار کو ہدا اور عرفات کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ایک احتجاجی مظاہرے کے لیے لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں