ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے سے اہم مذاکرات کی بنیاد

Image caption معاہدے کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے سے روکنا تھا

ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں اضافے کا مقصد اسے مذاکرات کی میز پر لا کر اس کے جوہری پروگروام پر کوئی سمجھوتہ کرنا تھا۔

ادھر ایران کے ساتھ مذاکرات کا مقصد یہ تھا کہ اس کے خلاف اسرائیل یا امریکہ یا دونوں کی طرف سے کوئی بھی فوجی کارروائی خوش گوار طریقہ نہیں تھا۔

ایران کے خلاف مزید پابندیاں نہ لگائیں: اوباما

جنیوا میں مذاکرات کے پہلے دور کا مقصد حالات کا جائزہ لینا، اچھا ماحول پیدا کرنا، اعتماد بحال کرنا اور مزید وقت لینا تھا جو معاہدے کے مطابق چھ مہینے ہیں۔ یہ اتنا وقت ہے جس کےدوران ایران کے جوہری پروگرام کے تکنیکی معاملات کو حل کیا جا سکتا ہے جس کا مقصد اس مسئلے کو ایک جامع معاہدے کے ذریعہ ہمیشہ کے لیے حل کرنا ہے۔

تو ایران کے ساتھ یہ عبوری معاہدہ ان مقاصد میں کتنا کامیاب رہا؟

پہلی نظر میں یہ معاہدہ عالمی طاقتوں کے نقطۂ نظر سے اچھا دکھائی دیتا ہے جس کی شاید بہت سے تجزیہ کار توقع نہیں کر رہے تھے۔

اس کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو آگے بڑھنے سے روکنا تھا۔

اگر اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کیا گیا تو مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔

  • پانچ فیصد سے زیادہ یورینیم کی افزودگی روک دی جائے گی
  • 20 فیصد افزودہ یورینیم کے تمام ذخیرے کو ایسی شکل میں تبدیل کیا جائے گا جو مزید افزوردگی کے لیے موزوں نہ ہوں۔ یہ 20 فیصد افزودہ یورینیم وہی مواد ہے جسے ایران ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔
  • مزید سنٹری فیوجز نہیں لگائے جائیں گے اور موجودہ سنٹری فیوجز کی کثیر تعداد کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔
  • چھ مہینوں تک ایران کی 3.5 فیصد افزودہ یورینیم کی مقدار برقرار رہے گی اور اس سے زیادہ مقدار کو آکسائڈ کی شکل میں تبدیل کرنا پڑے گا۔
  • آرک کے ایٹمی ری ایکٹر میں مزید کسی قسم کا تعمیراتی یا تجرباتی کام نہیں ہوگا کیونکہ مغربی ممالک کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایران اس کو جوہری بم بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو بہت حد تک روک دیا جائے گا۔

اس کے بدلے ایران پر لگائی گئی اقتصادی پابندیاں نرم کر دی جائیں گی جسے امریکہ نے ’محدود، عارضی اور قابلِ واپسی معاشی اقدامات‘ قرار دیا ہے۔

  • ابتدائی طور پر اگر ایران اس معاہدے کی پابندی کرتا ہے تو اس کے خلاف آئندہ چھ مہینوں میں نئی اقتصادی پابندیاں نہیں عائد کی جائیں گی۔
  • ایران کے سونے، قیمتی دھاتوں، گاڑیوں کی صنعت اور پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر سے بعض پابندیاں ہٹا دی جائیں گی جس سے ایران کو تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر آمدن ہوگی۔
  • ایران کے سویلین استعمال کے جہازوں کے حفاظتی اقدامات کے لیے مرمت اور اس کے معائنوں کی اجازت دی جائے گی۔
  • ایران کو اس کے تیل کی فروخت کی مد میں تقریباً 4.2 ارب امریکی ڈالر متنقل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
  • ایران کے تقریباً 40 کروڑ امریکی ڈالر کی رقم دوسرے ممالک میں تعلیمی اداروں کو منتقل کرنے کی اجازت دی جائے گی تاکہ ایرانی طلبا وہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنی فیس ادا کر سکیں۔

ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں اس عبوری معاہدے سے خوش ہیں۔ دونوں کہہ سکتے ہیں کہ انھیں رعایتیں ملیں لیکن اس معاہدے کے حقیقی اثرات محدود ہوں گے۔

اس معاہدے کی حقیقی کامیابی یہ ہے کہ اس کے ذریعے مزید اہم مذاکرات کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔

ایران کے خلاف خاص قسم کی اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔ امریکہ اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ پابندیوں پر عمل درآمد جاری رہے گا۔

اس معاہدے کے تحت ایران اپنی جوہری سرگرمیاں بہت حد تک روک دے گا لیکن اس کے بہت سے سنٹری فیوج پہلے ہی سے نہیں چل رہے اور آرک ری ایکٹر بھی ابھی تک نہیں چلایا گیا۔

پس ایران نہ کچھ زیادہ دے رہا ہے اور نہ ہی اس کو کچھ زیادہ فائدہ ہو رہا ہے۔

تاہم ایران کو ایک اہم رعایت دی گئی ہے جس کے تحت ایران بنیادی سطح پر یورینیم کی افزودگی جاری رکھ سکے گا جس کی وجہ سے اسرائیل نے اس معاہدے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس معاہدے کو ایک ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا ہے جبکہ بعض کا خیال ہے کہ اس معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ کی شکل تبدیل ہو جائے گی۔

یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں ماحول کو تبدیل کرنے اور مستقبل میں اہم مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کرنے کی قوت ہے۔ مستقبل میں مذاکرات شاید کامیاب ہوں یا نہ ہوں۔

ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے حل ہونے سے خطے میں ایک ممکنہ جنگ سے بچا جا سکے گا۔

تاہم اسرائیل اور چند عرب ریاستیں، بالخصوص سعودی عرب، امریکہ کے لائحہِ عمل کے بارے میں کافی تشویش رکھتے ہیں۔

عدم اعتماد اور باہمی علطی فہمیوں کی وجہ سے دونوں طرف کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔

ان کا خیال ہے کہ جو امریکی انتظامیہ شام پر بمباری کرنے سے کتراتی رہی کیا اس پر انحصار کیا جا سکتا ہے کہ اگر کھبی ایرانی معاملہ بگڑتا ہے تو وہ اپنی دھمکیوں پر پورا اترے گی۔

اور اگر ایران سے ایک جامع معاہدہ طے پاتا ہے تو کیا یہ ایران کے خطے میں بڑھتے اثر و رسوخ کی علامت نہیں؟

یہ سب معقول خدشات ہیں مگر جب بات آتی ہے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تو اسے قدرے مختلف انداز میں دیکھا جاتا ہے۔

اس میں کیا جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران خطے میں عسکری تناظر کو بہت تبدیل کر دے گا۔ اس سے خطے میں دیگر ممالک بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

مشرقِ وسطیٰ بنیادی طور پر ایک مختلف خطہ بن جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے اور جذبات میں اتنی شدت ہے۔

اسی بارے میں